
امن مذاکرات : فوری معاہدے کے امکانات کم، مگر سفارتی پیش رفت اہم قرار: رپورٹ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اس ہفتے کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے،جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ امن راستہ تلاش کرنا ہے۔
الجزیرہ لکھتا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت میں غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے، اہم سڑکوں پر کنٹرول سخت ہے، جبکہ سرینا ہوٹل کو مکمل طور پر سفارتی وفود کے لیے مختص کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔
الجزیرہ کے مطابق مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہفتے کے روز شروع ہوں گے۔ ابتدائی سیشن صبح کے وقت ہوگا، جبکہ امکان ہے کہ بات چیت 15 دن تک مختلف مراحل میں جاری رہ سکتی ہے۔
پاکستانی حکومت نے دارالحکومت میں دو روز کی عام تعطیل کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ سیکیورٹی انتظامات بہتر طور پر کیے جا سکیں۔
الجزیرہ رپورٹ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ان کے ساتھ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
ایران کی طرف سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے۔
پاکستان ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور دونوں وفود کے درمیان رابطے اور پیغام رسانی پاکستانی حکام کے ذریعے ہوگی۔
الجزیرہ کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، ایران کے ساتھ طویل سرحد، اور امریکہ و ایران دونوں سے بیک وقت سفارتی تعلقات اسے ایک اہم ثالث بناتے ہیں۔
مزید یہ کہ پاکستان میں امریکی فوجی اڈے نہ ہونے کی وجہ سے ایران اسے نسبتاً غیر جانبدار پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کی جانب سے 10 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، امریکی فوجوں کے انخلا اور خطے میں فوجی کارروائیوں میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے بعض مطالبات کو غیر واضح یا ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، تاہم سفارتی رابطے جاری ہیں۔
ایک اہم تنازع لبنان کی صورتحال ہے، جہاں اسرائیلی حملوں میں اضافہ مذاکراتی ماحول پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد موجود ہے، جس کے باعث فوری اور حتمی معاہدہ مشکل نظر آتا ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کا مسئلہ اس پورے عمل کے لیے “بریکنگ پوائنٹ” ثابت ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اگرچہ ان مذاکرات سے فوری امن کی امید کم ہے، تاہم یہ ایک اہم سفارتی قدم ضرور ہے جو مستقبل میں بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔



