
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی میزبانی میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات آج اور کل اسلام آباد میں ہوں گے، سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کر دیے گئے۔
اہم رہنما اسلام آباد پہنچیں گے
ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی وفد میں شامل ہوں گے۔
ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وفود کی سطح پر بات چیت آج شروع ہوگی جبکہ مذاکرات کا مرکزی مرحلہ ہفتے کو ہوگا۔ ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکراتی مقام کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں تمام انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور غیر ملکی مہمانوں کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔
اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
سکیورٹی کنٹرول روم وزارت داخلہ میں قائم کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن بھی بڑھا دی گئی ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، کمشنر راولپنڈی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی سی اسلام آباد، رینجرز، فیڈرل کانسٹیبلری اور وزارت خارجہ کے نمائندے شریک ہوئے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ بات چیت بند کمروں میں ہوگی اور معاہدہ وہی ہوگا جو امریکہ کے قومی مفاد میں بہتر ہوگا۔



