Artemis 2 sets new record as humans travel furthest into space
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی خلائی ادارہ ناسا کا آرٹیمس مشن ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے انسان کو خلا میں اب تک کے سب سے زیادہ فاصلے تک لے گیا، جہاں خلا بازوں نے چاند کے اُس حصے کا مشاہدہ بھی کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
اورین خلائی جہاز میں سوار چار رکنی عملہ زمین سے تقریباً 2 لاکھ 52 ہزار 756 میل (402,000 کلومیٹر) دور پہنچا، یوں 1970 کے اپولو ۱۳ کا ریکارڈ بھی پیچھے رہ گیا۔
چھ گھنٹے پر محیط فلائی بائی کے دوران خلا بازوں نے چاند کی تاریک سطح پر شہابیوں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی روشنی کو براہِ راست دیکھا، جو سائنسی اعتبار سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ یہ مشاہدات آئندہ قمری تحقیق کے لیے قیمتی ڈیٹا فراہم کریں گے۔
مشن میں شامل خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن نے چاند کے ایسے مناظر دیکھے جو ماضی میں بہت کم انسانوں نے دیکھے ہیں۔
فلائی بائی کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب چاند کے پیچھے جانے پر تقریباً 40 منٹ تک زمین سے رابطہ منقطع رہا، جس کے بعد رابطہ بحال ہونے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلا بازوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔
ناسا کے مطابق یہ مشن آئندہ برسوں میں انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری کا حصہ ہے، جبکہ مستقبل میں مریخ مشنز کے لیے بھی بنیاد فراہم کرے گی



