Attacks on tankers and energy facilities pose new threats to the global economy
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔امریکا اور اسرائیل کشیدگی کے دوران خلیج کے سمندری راستوں اور توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی تیل منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے، جبکہ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
عراقی بندرگاہی حکام اور بحری سلامتی اداروں کے مطابق عراق کے پانیوں میں دو غیر ملکی آئل ٹینکروں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی اور کم از کم ایک کا رکن ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ خلیج کے پانیوں میں تین تجارتی جہازوں کو بھی نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایران کی فوجی قیادت کے ترجمان نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں عدم استحکام برقرار رہا تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ عالمی توانائی کی قیمتیں خطے کے امن و استحکام سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔
عالمی توانائی ایجنسی نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے 400 ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ذخائر سے جاری کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ امریکا نے بھی اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خلیج کے کئی ممالک میں توانائی تنصیبات اور جہازوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔




