Don't repeat our mistake, Syrian Kurds advise Iranian Kurds to stay away from America
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق شمال مشرقی شام میں رہنے والے کردوں نے ایران کے کردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کے ساتھ اتحاد کرنے سے پہلے انتہائی احتیاط برتیں، کیونکہ ان کے مطابق ایسا اتحاد مستقبل میں انہیں تنہا چھوڑ سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ عراق کے شمال میں قائم ایرانی کرد گروہوں نے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ مشاورت کی ہے کہ ایران کے مغربی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ممکنہ کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔
شام کے کرد شہر قامشلی کے رہائشی سعد علی کا کہنا ہے کہ ایران کے کردوں کو امریکہ کے ساتھ اتحاد سے گریز کرنا ان کا کہنا تھا، کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ایرانی کرد ہماری غلطی نہیں دہرائیں گے۔چاہیے۔
تاہم رواں سال جنوری میں شام کی نئی فوج نے صدر احمد الشرع کی قیادت میں ایک بڑے آپریشن کے دوران کردوں کے زیر کنٹرول زیادہ تر علاقے واپس لے لیے۔
قامشلی کے ایک اور کرد شہری امجد کاردو کے مطابق ایران کے کردوں کو کسی بھی عسکری اقدام سے پہلے امریکہ سے واضح اور تحریری ضمانتیں حاصل کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں کردوں کا امریکہ کے ساتھ تجربہ مایوس کن رہا ہے۔
دوسری جانب ایک ایرانی کرد ذرایٔع نے بتایا کہ ایرانی کرد قیادت کو بھی خدشہ ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی شام کے کردوں جیسا رویہ نہ اختیار کیا جائے، اسی لیے امریکہ سے کچھ ضمانتیں طلب کی گئی ہیں۔
ادھر شامی کرد جماعت پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ احمد برکت نے بھی ایرانی کردوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے-



