Poland's tough move Possible ban on social media for children under 15
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پولینڈ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پلیٹ فارمز کو عمر کی مؤثر تصدیق یقینی بنانا ہوگی، بصورت دیگر انہیں جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیر تعلیم باربرا نوواکانے ایک انٹرویو میں بتایا کہ حکمران اتحاد مجوزہ قانون کا ابتدائی خاکہ پیش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق قانون 2027 کے آغاز تک نافذ العمل ہو سکتا ہے جبکہ جرمانوں کی نوعیت اور مقدار پر مشاورت جاری ہے۔
باربرا نوواککا نے کہا،ہم نوجوانوں کی ذہنی صحت میں واضح گراوٹ دیکھ رہے ہیں، ان کی فکری اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد بچوں کو غیر محفوظ ڈیجیٹل ماحول سے بچانا ہے، نہ کہ ٹیکنالوجی کی مکمل مخالفت کرنا۔
دوسری جانب پیڈرو سانچیز نے حالیہ خطاب میں اعلان کیا کہ اسپین 16 سال سے کم عمر افراد کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بچے ایسے آن لائن ماحول میں موجود ہیں جس کیلئے وہ اکیلے تیار نہیں۔ اب انہیں غیر محفوظ ڈیجیٹل دنیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
امریکہ میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک اہم مقدمہ بھی جاری ہے، جس میں میٹا اور یو ٹیوب پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کم عمر صارفین میں لت پیدا کرنے والے فیچرز متعارف کرائے۔ مقدمے کے مدعی وکیل کا مؤقف ہے کہ ان پلیٹ فارمز نے بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن رکھنے کیلئے حکمتِ عملی اپنائی۔




