Modi's Israel visit: Strengthening friendship or a test of diplomatic balance in the Middle East
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی کی خبر کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی غزہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنے پہلے دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ بن گوریون ہوائی اڈے پر ان کا استقبال اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کیا۔ دورے کے دوران مودی اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ سے خطاب کریں گے اور صدراسحاق ہرزوگ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، تاہم فلسطینی قیادت سے کسی ملاقات کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سفر کا محور دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ 2017 میں مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے تھے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم موڑ سمجھا گیا تھا۔
وزیر اعظم نیتن یاہو نے مودی کی آمد کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان شراکت داری جدت، سلامتی اور مشترکہ حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔ مودی نے بھی کہا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ اعتماد اور ترقی پر مبنی دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
امریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق سخت وارننگز کے تناظر میں بھارت کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت نے سات اکتوبر کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا، تاہم غزہ میں شہری ہلاکتوں پر تشویش اور دو ریاستی حل کی حمایت بھی دہرائی۔
اسرائیل میں مودی کے خطاب کو سیاسی بحث کا سامنا ہے، جہاں اپوزیشن نے بعض عدالتی تنازعات کے باعث بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔ بھارت میں بھی کانگریس کے رہنماؤں نے حکومت کو فلسطینی مؤقف سے دور ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے




