Mexico's most wanted drug lord 'El Mencho' killed in military operation, tension across the country
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک بی بی سی کی خبر کے مطابق میکسیکو کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کا سب سے مطلوب منشیات سرغنہ نمیسیو اوسگیرا سروانتس المعروف ایل مینچو ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا۔ وہ جلسکو نیو جنریشن کارٹیلکا سربراہ تھا اور اتوار کو گرفتاری کی کوشش کے دوران اپنے حامیوں اور فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں شدید زخمی ہوا۔ حکام کے مطابق اسے دارالحکومت منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں دم توڑ گیا۔
وزارت دفاع کے بیان کے مطابق ریاست جالیسکو کے قصبے تاپالپا میں خصوصی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران کارٹیل کے چار ارکان مارے گئے جبکہ فوج کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی جس میں فضائیہ اور نیشنل گارڈ کی معاونت حاصل تھی۔ اس دوران بکتر بند گاڑیاں اور بھاری اسلحہ، بشمول راکٹ لانچر، قبضے میں لیا گیا۔
امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات نے بھی اس کارروائی میں مدد دی۔ امریکی محکمہ خارجہ پہلے ہی ایل مینچو کی گرفتاری پر ڈیڑھ کروڑ ڈالر انعام مقرر کر چکا تھا۔ اس کی ہلاکت کے بعد کارٹیل نے مختلف علاقوں میں شدید ردِعمل ظاہر کیا، متعدد شہروں میں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے۔ گواڈالاہارا سمیت کئی شہروں میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
ریاست جالیسکو کے گورنر پابلو لی موس ناوارو نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی اور عوامی ٹرانسپورٹ عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔ سیاحتی مقام پورٹو ویارتا میں بدامنی کے باعث متعدد سیاح ہوٹلوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جالیسکو اور دیگر متاثرہ علاقوں میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے پروازیں منسوخ یا رخ موڑ دیا۔
انسداد منشیات حکام کے مطابق 59 سالہ ایل مینچو سابق پولیس افسر تھا جس نے کوکین، میتھ ایمفیٹامین اور فینٹانائل کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کا نیٹ ورک قائم کیا۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام پاردو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور کہا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں معمولات زندگی جاری ہیں۔




