Request for urgent meeting rejected, 3-member bench formed for cipher appeals
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے پیر کے روز پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کو نوٹس دیے بغیر اس نوعیت کا کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا، جس کے بعد حکومت کو اس معاملے پر منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا۔
یہ درخواست سینئر پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی۔ اس پر دو رکنی بینچ نے سماعت کی جس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کی رکاوٹ دور کرنی ہوگی، اور یاد دلایا کہ عمران خان کے متعدد مقدمات دیگر عدالتوں میں بھی زیرِ سماعت ہیں۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ حکومت کو سنے بغیر عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ “حکومت کو نوٹس دیے بغیر ملاقات سے متعلق کوئی آرڈر نہیں ہو سکتا۔” عدالت نے یہ بھی کہا کہ ان کے نزدیک یہ معاملہ غیر مؤثر ہو سکتا ہے، اور اس ضمن میں 24 اگست 2023 کے عدالتی حکم کا حوالہ دیا گیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق 13 درخواستیں پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر کر رکھی تھیں۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان کی بریت کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا۔ اسی طرح سائفر کیس میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیلوں کے لیے بھی تین رکنی بینچ بنانے کی ہدایت کی گئی۔
دوسری جانب، القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست بھی زیرِ سماعت آئی، تاہم عدالت نے اسے غیر مؤثر قرار دے کر خارج کر دیا۔
سماعت کے بعد عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک ہی دن میں متعدد درخواستوں کی سماعت سیاسی انتقام کی علامت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں عمران خان سے صرف “پانچ منٹ” کی ملاقات ہو سکی ہے اور ملاقاتوں پر پابندی ہے۔ ان کے مطابق وہ عمران خان کی نمائندگی 300 سے زائد مقدمات میں کر رہے ہیں جبکہ 58 مقدمات میں ضمانتیں جج افضل مجوکا کے سامنے زیرِ التوا ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے بھی کہا کہ پارٹی نے سپریم کورٹ میں شکایت کی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کے کیسز مقرر نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور صحت کے حوالے سے انہیں نامکمل میڈیکل رپورٹ دی گئی ہے۔





