'No return' Trump's insistence on Greenland issue, European reaction swift
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر “کوئی واپسی نہیں”، جس کے بعد یورپ بھر میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور نیٹو اتحاد دباؤ میں آ گیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ امریکی اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ میں نے سب کو واضح طور پر بتایا ہے، گرین لینڈ قومی اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس فیصلے پر کوئی واپسی ممکن نہیں۔
ٹرمپ نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھی جاری کیں جن میں وہ گرین لینڈ میں امریکی پرچم تھامے دکھائی دیے، جبکہ ایک تصویر میں گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکا کے نقشے کا حصہ دکھایا گیا، جس پر یورپی دارالحکومتوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
ٹرمپ کے اس مؤقف نے نیٹو اتحاد کو سنگین دباؤ میں ڈال دیا ہے اور یورپ کے ساتھ ایک نئی تجارتی جنگ کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ یورپی یونین امریکی دباؤ کے جواب میں 93 ارب یورو مالیت کی امریکی درآمدات پر جوابی محصولات اور سخت تجارتی اقدامات پر غور کر رہی ہے، جو 6 فروری سے نافذ ہو سکتے ہیں۔
مزید خبریں : قتل کی کوشش پر تباہ کن انجام کی دھمکیاں، امریکا اور ایران میں کشیدگی عروج پر
ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خودمختاری، قومی شناخت، سرحدوں اور جمہوریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈر لیین نے رہنماؤں سے “ایک نئی خودمختار یورپ” کی تعمیر کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔
ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صورتحال کو غیر ضروری “ہسٹیریا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یورپ کے درمیان ایسا حل نکالا جائے گا جو دونوں کی سلامتی کو یقینی بنائے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ گرین لینڈ تاریخی طور پر ڈنمارک کا فطری حصہ نہیں رہا بلکہ یہ نوآبادیاتی قبضے کا نتیجہ ہے۔





