Afghan transit crisis: Government allows re-export of Afghan transit cargo
اردو انٹرنیشنل(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق حکومتِ پاکستان نے پاکستانی بندرگاہوں پر پھنسے افغان ٹرانزٹ کارگو کی ری ایکسپورٹ کی اجازت دے دی ہے تاکہ افغان درآمد کنندگان کو بڑھتے ہوئے ڈیمرج چارجز سے بچایا جا سکے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تجارت کی بحالی کے فوری امکانات نظر نہیں آ رہے۔
وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے وابستہ درآمد کنندگان نے اکتوبر 2025 میں پاک افغان سرحد کی بندش کے بعد کراچی کی بندرگاہوں پر رکے ہوئے 6,500 سے زائد کنٹینرز کے لیے ایک بار خصوصی رعایت کی درخواست کی تھی۔ سرحدی بندش کے باعث یہ کنٹینرز شدید مالی دباؤ کا سبب بن رہے تھے۔
ایک سینئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ وزارتِ تجارت انفرادی درخواستوں پر ری ایکسپورٹ کی اجازت دے رہی ہے اور وزیرِ تجارت کو ایک بار کی بنیاد پر اس نوعیت کی رعایت دینے کا اختیار حاصل ہے۔ اگرچہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم متعلقہ درآمد کنندگان کو اجازت نامے جاری کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پھنسے ہوئے کنٹینرز میں سب سے بڑی تعداد تقریباً 3,000 کنٹینرز کی ہے جو ملائیشیا سے درآمد کیے گئے پام آئل پر مشتمل ہیں، جو افغانستان میں خوردنی استعمال کے لیے تھے۔ حکام کے مطابق پام آئل کے بیشتر درآمد کنندگان کو ری ایکسپورٹ کی اجازت دے دی گئی ہے۔
کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ چمن اور طورخم پر پھنسے کنٹینرز کی تعداد محدود ہے، جو 600 سے 700 کے درمیان ہے، جبکہ زیادہ تر افغان ٹرانزٹ کارگو کراچی کی بندرگاہوں پر موجود ہے۔ یہ سامان زیادہ تر چین اور ویتنام سے درآمد کیا گیا تھا، اور ان ممالک کے سفیروں نے بھی اپنی حکومتوں کی جانب سے ری ایکسپورٹ کی اجازت کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا تھا۔
3 دسمبر 2025 کو حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 143 کنٹینرز کو محدود ٹرانزٹ کی اجازت دی تھی، تاہم افغان حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باعث یہ سامان بھی سرحد عبور نہ کر سکا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے راستے افغان درآمدات کا حجم تیزی سے کم ہوا ہے جو مالی سال 2023 میں 6.7 ارب ڈالر تھا، مالی سال 2024 میں 2.4 ارب ڈالر اور مالی سال 2025 میں مزید گھٹ کر 1.01 ارب ڈالر رہ گیا۔ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ تجارتی تعطل برقرار رہا تو یہ حجم رواں مالی سال میں ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہو سکتا ہے۔





