
پشاور: پولیس کمپاؤنڈ پر خودکش حملہ،بمبار سمیت 3 ہلاک، 3 اہلکار شہید
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹربیون کے مطابق پشاور میں پیر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز کے گیٹ پر ایک خودکش حملہ آور کے حملے میں تین ایف سی اہلکار شہید جبکہ پانچ زخمی گئے۔
حملہ پشاور کے صدر علاقے میں ہوا اوراس میں تین دہشت گرد شامل تھے،خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ تینوں دہشت گرد خودکش جیکٹس پہنے ہوئے تھے ایک نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دو حملہ آور کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے لیکن فورسز نے انہیں ہلاک کر دیا۔
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ پہلا خودکش حملہ آور پیدل صدر سائیڈ سے ہیڈکوارٹرز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ دھماکا صبح 8 بج کر 11 منٹ پر ہوا، تاہم اہلکاروں نے حملہ آور کو اندر داخل ہونے سے روک لیا۔ اس کے ساتھیوں نے بھی اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن سیکیورٹی نے انہیں روک لیا۔
مرکزی گیٹ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں دھماکے کی فوٹیج ریکارڈ ہوئی۔ دھماکے کے بعد دو حملہ آوروں نے اندر گھسنے کی کوشش کی لیکن اہلکاروں نے انہیں بھی ہلاک کر دیا۔
خیبرپختونخوا کے آئی جی زوالفقار حمید نے تصدیق کی کہ تینوں دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور سب کے پاس خودکش جیکٹس موجود تھیں۔
حملے کے وقت ہیڈکوارٹرز میں ایک پریڈ جاری تھی جس میں تقریباً 450 اہلکار موجود تھے۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ زخمیوں میں ایف سی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ شہری بھی شامل ہیں۔ ہسپتال حکام کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ترجمان کے مطابق صدر دھماکے میں زخمی ہونے والے نو افراد کو ایل آر ایچ منتقل کیا گیا ہے،جن میں تین ایف سی اہلکار اور شہری شامل ہیں۔ تمام زخمی خطرے سے باہر ہیں اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پشاور کے چیف پولیس آفیسر میاں سعید احمد نے سیکیورٹی آپریشن کی قیادت کی۔ حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، مرکزی شاہراہ پر ٹریفک معطل کی اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔ کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جس کے بعد سڑکیں کھول دی جائیں گی۔
آئی جی نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کے حوالے سے کوئی مخصوص تھریٹ الرٹ نہیں تھا، تاہم فورسز کی بروقت کارروائی نے صورتحال کو قابو میں رکھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں ایسے کئی حملے حال ہی میں ناکام بنائے گئے ہیں، اور گزشتہ ہفتے صوبہ بھر میں سیکیورٹی کا جائزہ بھی لیا گیا تھا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق 50 سے زائد ریسکیو اہلکار، چھ ایمبولینسز اور فائر وہیکلز جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے۔ تاحال کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے آئی جی زلفیقار حمید سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور کہا ہمارے جوانوں کی بہادری نے بڑے نقصان کو روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
شہداء ہمارا فخر ہیں، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی”، وزیراعلیٰ نے کہا۔
انہوں نے مزید عزم ظاہر کیا کہ ذمہ داروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط حوصلے سے جاری رہے گی۔






