
افغان طالبان ٹی ٹی پی کو لاجسٹک سپورٹ دے رہے ہیں،ڈنمارک کا سلامتی کونسل میں انکشاف،ایڈیٹوریل ڈان نیوز
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز اپنے ایڈیٹوریل میں لکھتا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان ان دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں اٹھایا ہے جو افغانستان میں پناہ لیے بیٹھے ہیں اور افغان طالبان نے سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا لیکن اب دنیا بھی اس خطرے کی شدت کو سمجھنے لگی ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی آئی ایس آئی ایل اور القاعدہ پابندیوں کی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں ڈنمارک جو اس وقت کمیٹی کا چیئر ہے نے کہا کہ پابندی شدہ ٹی ٹی پی وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک “سنگین خطرہ” ہے، اور اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ گروہ افغان حکام، یعنی طالبان، کی جانب سے “لاجسٹک اور خاطر خواہ حمایت” حاصل کر رہا ہے۔
ڈنمارک کے نمائندے نے ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان پر کیے جانے والے بار بار سرحد پار حملوں کا بھی ذکر کیا اور عالمی برادری کو اس خطرے سے آگاہ کیا جو داعش خراسان جو افغانستان میں موجود مگر طالبان کی مخالف ہے خطے کے لیے پیدا کر رہی ہے۔
ڈان نیوز مذید لکھتا ہے کہ پاکستانی نمائندے نے اس فورم پر طالبان اور ان کے تازہ اتحادی بھارت، دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دہشت گرد گروہ “اپنے میزبانوں کی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں” اور انہیں “ہمارے بنیادی حریف اور خطے کے عدم استحکام کے مرکزی محرک” کی جانب سے مدد مل رہی ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق طالبان پاکستان کے تحفظات کو اکثر نظرانداز کرتے رہے ہیں مگر اقوام متحدہ کے اس ادارے نے جو نکات اٹھائے ہیں، انہیں نظرانداز کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ پابندیوں کی کمیٹی نے وہی بات دہرائی ہے جو پاکستان برسوں سے کہہ رہا ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کی حمایت کر رہے ہیں، اور یہ کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق افغان طالبان نے ان سنگین خدشات کے جواب میں ہمیشہ مبہم مؤقف اختیار کیا ہے کبھی کہتے ہیں یہ پاکستان کا مسئلہ ہے، کبھی یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ پاکستانی ’پناہ گزین‘ رکھے ہوئے ہیں، اور کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی سرزمین پر کوئی ٹی ٹی پی دہشت گرد موجود نہیں۔ جیسا کہ صاف ظاہر ہے، بین الاقوامی برادری طالبان کی وضاحتوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ڈان نیوز مذید لکھتا ہے کہ انکار اور ضد دکھانے کے بجائے، کابل کی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرے۔ اس ماہ کے آغاز میں استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات کا آخری دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے۔ یہ توقع کرنا غیر حقیقی ہوگا کہ طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف سخت کارروائی کریں — دونوں گروہ ایک ہی نظریاتی بنیاد رکھتے ہیں اور افغانستان میں ایک ساتھ لڑتے رہے ہیں — مگر پاکستان کا یہ مطالبہ کہ طالبان سرحد پار حملے بند کروائیں پوری طرح قابل عمل ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق اگر طالبان کی طرف سے لیت و لعل اور انکار جاری رہا تو اس کا متبادل مزید تنازع ہوگا — جو نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ سرحد پار دہشت گردی اور داخلی سیکیورٹی پر سخت مؤقف رکھتے ہوئے بھی دو طرفہ تعلقات اور عوامی روابط کو مزید بگاڑنے نہ دے۔
اگر اسلام آباد اور کابل کے تعلقات مزید خراب ہوتے ہیں، تو خطے کی وہ قوتیں جو پہلے ہی پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں، ان اختلافات سے فائدہ اٹھائیں گی — اور اس سے پاکستان کی سیکیورٹی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔






