’الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو آئینی حق سے محروم کر دیا‘،مخصوص نشستیں لینے پر ماہرین کی رائے

0
58
الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی
الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی

’الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو آئینی حق سے محروم کر دیا‘،مخصوص نشستیں لینے پر ماہرین کی رائے

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر اسد رحیم خان نے انتخابی نگران ادارے کے فیصلے کو قانون اور بنیادی عقل سے عاری قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سابقہ ​​فیصلوں کی طرح اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے جس نے پاکستانی عوام کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک پارٹی کو مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کی منطق صرف اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب اسی ترتیب میں الیکشن کمیشن آزادانہ طور پر بقیہ نشستوں کو متناسب نمائندگی کی آڑ میں چھوٹی جماعتوں کو تقسیم کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے بیرسٹر ردا حسین نے کہا کہ انتخابی نگران ادارے کے لیے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کو دوسری جماعتوں میں تقسیم کرنا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر دعویٰ کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 51 واضح طور پر کہتا ہے کہ مخصوص نشستوں کے اراکین کا انتخاب متناسب نمائندگی کے نظام کے ذریعے کیا جانا ہے، جو کہ قومی اسمبلی میں کسی سیاسی جماعت کی حاصل کردہ جنرل نشستوں کی تعداد کی بنیاد پر ہے۔

یڈووکیٹ عبدالمعز جعفری نے اس حوالے سے کہ الیکشن کمیشن نے ایک پارٹی کو اس کے آئینی حق سے محروم کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی توقع بہت زیادہ تھی تاہم، پی ٹی آئی نے تکنیکی کھیل کھیل کر اور خود کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایسا ہونے دیا جب کہ حقیقت میں انہیں اپنی جگہ پر ڈٹ جانا چاہیے تھا اور پی ٹی آئی کے حق کے طور پر مخصوص نشستوں کا دعویٰ کرنا چاہیے تھا۔

عبدالمعز جعفری کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے پاکستان تحریک انصاف نے آزاد امیدواروں کی کو قبول کیا جو کہ ایسا نہیں تھا، یہ تمام پی ٹی آئی کے امیدوار تھے، جنہیں صرف ایک متحدہ نشان سے محروم رکھا گیا تھا نہ کہ ایک پارٹی کی حیثیت سے جو کہ آئینی طور پر تسلیم شدہ استحقاق ہے۔

دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کو مسترد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی حمایت کردی۔

جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سمجھنا ضروری ہے کہ قانون اور آئین کے مطابق اس کا کیا مطلب ہے۔

اشتر اوصاف کا کہنا تھا الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جس کے پاس نہ صرف دائرہ اختیار ہے بلکہ اس کے اوپر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری بھی ہے، سیاسی جماعتیں امیدواروں کی عارضی فہرستیں جمع کراتی ہیں اور نتیجہ کے بعد پارٹیوں کو مخصوص نشستیں الاٹ کی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں امیدوار پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں وہ سنی اتحاد کونسل سے پہلے ایک سیاسی جماعت میں گئے تھے لیکن اس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد وہ اس میں شامل ہو گئے۔