Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • Top News
  • بین الاقوامی

بشار حکومت کے بعد اگلے مراحل اور پالیسی کیا ہوگی: احمد الشرع کا خصوصی انٹرویو

بشار حکومت کے بعد اگلے مراحل اور پالیسی کیا ہوگی: احمد الشرع کا خصوصی انٹرویو

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بہت سے شامی اب بھی بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر خوشی منا رہے ہیں۔ شام میں عبوری حکومت کے رہنما احمد الشرع نے العربیہ نیٹ ورک کو ایک خصوصی انٹرویو میں دیا ہے۔

اسد حکومت کا سقوط
احمد الشرع نے اتوار کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ شامی باشندوں نے 14 سال تک مصائب برداشت کیے اور وہ المیوں سے گزرے ہیں۔ انہوں نے کہا شام میں تنازع کا پیمانہ پیچیدہ تھا۔ شام کے بحران کا سیاسی حل ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو گرانے کے عمل میں جانی نقصان کو روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچانا ایک ترجیح ہے۔ انتظامیہ نے جانوں کے تحفظ کے لیے ایک تیز فوجی آپریشن کا منصوبہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن کے دوران ہم نے بڑے شہروں میں داخل ہونے کا خیال رکھا اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد ہمارے ساتھ تھی۔ ہم بغیر کسی نقل مکانی کے آپریشن کے شامی شہروں کے مضافاتی علاقوں میں داخل ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقتدار کی منتقلی ہموار تھی کیونکہ اس نے اداروں کے خاتمے کو روکا۔ شام میں جو کچھ ہوا وہ تاریخی تھا۔

ایس ڈی ایف اور داخلی سیاست
ایس ڈی ایف اور اندرونی سیاست کے ساتھ تعلقات کے بارے میں احمد الشرع نے شامی فوج میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے انضمام کا خیر مقدم کیا۔

احمد الشرع نے کہا ہتھیار صرف ریاست کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں اور یہ اصول ایس ڈی ایف پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ شمال مشرقی شام میں بحران کے حل کے لیے اب ایس ڈی ایف کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

احمد الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ کرد شام کے اجزا کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ملک کی کوئی تقسیم نہیں ہوگی۔ انہوں نے ترکیہ کے خلاف پی کے کے کے حملوں کے لیے شام کے پلیٹ فارم بننے کو مسترد کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے شام کی تقسیم کو مسترد کردیا اور وفاقیت کے اصول کو بھی مسترد کیا۔ مظاہرے کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک جائز حق ہے بشرطیکہ اس سے اداروں کو نقصان نہ پہنچے۔

آئین اور انتخابات
انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں نئے آئین کی تیاری اور اسے لکھنے میں تقریباً 3 سال لگ سکتے ہیں اور انتخابات کے انعقاد میں بھی 4 سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کسی بھی مناسب انتخابات کے لیے ایک جامع مردم شماری کی ضرورت ہوگی جس کے لیے وقت درکار ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ملک قانون کی تعمیر نو کے مرحلے میں ہے۔ ’’قومی مکالمہ کانفرنس” معاشرے کے تمام اجزا کو اکٹھا کرے گی۔ یہ کانفرنس خصوصی کمیٹیاں بنائے گی اور ووٹنگ کا مشاہدہ بھی کرے گی۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ شام کو ایک سال کی ضرورت ہے تاکہ شہری خدمات میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا سکیں۔

مظاہروں کے حوالے سے انہوں نے زور دے کر کہا کہ اداروں سے تعصب کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرنا کسی بھی شہری کا جائز حق ہے۔

یک طرفہ معاملات
جہاں تک موجودہ عبوری حکومت میں یک طرفہ قسم کی تقرریوں کا تعلق ہے تو احمد الشرع نے وضاحت کی کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کہ اس مرحلے کے لیے نئی اتھارٹی کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعیناتیوں کی موجودہ شکل اس مرحلے پر ایک ضرورت تھی۔ اس سے کسی کو خارج کرنا مقصود نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرحلے میں کوٹہ عبوری عمل کو تباہ کر دے گا۔

وقوع پذیر ہونے والی کچھ انتقامی کارروائیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ یہ انتقامی کارروائیاں بحران کے حجم کے مقابلے میں توقع سے کم تھیں۔ پچھلی حکومت نے شامی معاشرے میں بہت بڑی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ لیکن اب شام کے اندر کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ شامی ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرائم کے تمام مرتکب افراد کو ان کی سزا ملے گی۔

تحریر الشام
جہاں تک تحریر الشام سمیت گروپوں کو تحلیل کرنے کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ گروپ بھی یقینی طور پر تحلیل ہو جائے گا اور اس کا اعلان قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں کیا جائے گا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ نئی اتھارٹی ریاستی ذہنیت کے ساتھ ملک کو چلائے گی۔ شام کسی کے لیے تکلیف کا باعث نہیں بنے گا۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات
احمد الشرع نے وضاحت کی کہ شام کو تعمیر و ترقی میں سعودی تجربے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا سعودی عرب ایک اہم علاقائی ملک ہے اور شام اس کے ساتھ تعاون کا خواہشمند ہے۔

انہوں نے کہا شام کے مستقبل میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے۔ خاص طور پر چونکہ وہ شام میں استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ وہ ریاض میں پیدا ہوئے تھے۔

ایران کے بارے میں
اس کے علاوہ احمد الرشع نے وضاحت کی کہ 40 سال تک جاری رہنے والا ایران کا منصوبہ شام میں 11 دنوں میں منہدم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی انقلاب نے کیپٹاگون کی تیاری شام کو برآمد کی۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ایرانی انقلاب کا منصوبہ فرقہ وارانہ فسادات، جنگوں اور بدعنوانی کا سبب بنا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی انقلاب کی برآمدات سے خطے پر بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل شام میں داخل ہونے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور پھر ایران مداخلت کرے گا۔ بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی اس برق رفتار جنگ نے شام، خلیج اور خطے کو 50 سال تک محفوظ بنادیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو خطے کے عوام کی قیمت پر اپنی مداخلتوں کا ازسر نو حساب کرنا چاہیے۔

احمد الشرع نے کہا ’’ آپریشنز ڈیپارٹمنٹ‘‘ نے ایران کے ساتھ ریاست کی منطق کے ساتھ معاملہ کیا اور اس کی طرف سے مثبت اشارے کا انتظار کیا۔ اس کے علاوہ احمد الشرع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کو شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ ایران کا ایک بڑا طبقہ خطے میں تہران کے لیے مثبت کردار کا خواہاں ہے۔

احمد الشرع نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ ایسے تعلقات چاہتے ہیں جو شام کے اندرونی معاملات میں خود مختاری کا احترام کرنے پر مبنی ہوں۔

روس کے متعلق
شامی عبوری حکومت کے رہنما احمد الشرع نے زور دے کر کہا کہ آپریشن ڈیپارٹمنٹ نہیں چاہتا کہ روس شام سے اس طریقے سے نکلے جو شام کے ساتھ اس کے تعلقات کے موافق نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس دنیا کا دوسرا طاقتور ترین ملک ہے اور اس کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمشق کے ماسکو کے ساتھ سٹریٹجک مفادات ہیں۔

نئی امریکی انتظامیہ
احمد الشرع کو امید ہے کہ آنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جلد از جلد شام پر سے پابندیاں اٹھا لے گی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکی وفود کو کہا ہے کہ شام پر پابندیاں جاری نہیں رہنی چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شامیوں کے مفادات کو سب سے پہلے مدنظر رکھا جارہا ہے۔

واضح رہے 8 دسمبر کو سابق صدر بشار الاسد کے زوال کے ساتھ ہی ایران خطے میں ایک اہم اتحادی سے محروم ہو گیا۔ اسی طرح ایران لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے ایک اہم زمینی راہداری سے بھی محروم ہوگیا۔ ماسکو نے برسوں کے دفاع کے بعد دمشق میں اپنے اتحادی کو بھی کھو دیا ہے لیکن حالیہ روسی بیانات اس عبوری مرحلے کے دوران عارضی طور پر ملک کا انتظام سنبھالنے والی نئی اتھارٹی کے لیے بہت مثبت نظر آئے ہیں۔

Tags: احمد الشرع العربیہ نیٹ ورک بشار الاسد بشار الاسد کی حکومت حکومت کے خاتمے خصوصی انٹرویو خوشی شام عبوری حکومت

Post navigation

Previous: قومی خواتین باسکٹ بال چیمپئن شپ: فائنل میں آج دفاعی چیمپئن واپڈا کا مقابلہ پاکستان آرمی سے ہوگا
Next: نائن الیون کی پیشگوئی کرنیوالے شخص کا خلائی مخلوق کے ظہور کا دعویٰ

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

یہ بھی پڑہیے

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

PSL opening ceremony canceled, matches will be held without fans: Mohsin Naqvi-PCB
  • کھیل

پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب منسوخ، میچز بغیر شائقین کے ہوں گے: محسن نقوی

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

Calendar

March 2026
MTWTFSS
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031 
« Feb    

Top News

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

US-Israeli attack, Iranian military spokesman martyred, Iran's powerful response, claims to have targeted the latest F-35
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

امریکا-اسرائیل حملہ، ایرانی فوجی ترجمان شہید،ایران کا طاقتور جواب،جدید ایف-35 نشانہ بنانے کا دعویٰ

Iranian attacks affect 17% of Qatar's LNG capacity, costing billions of dollars, putting global supply at risk
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ایرانی حملوں سے قطر کی 17٪ ایل این جی صلاحیت متاثر، اربوں ڈالر کا نقصان، عالمی سپلائی خطرے میں

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.