Turkey's preparation for joining the Pakistan-Saudi defense alliance
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ترکی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، جس سے خطے میں ایک نیا تزویراتی دفاعی اتحاد ابھرنے کا امکان ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق بات چیت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور معاہدہ طے پانے کا امکان خاصا مضبوط ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں جس دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اب اسی معاہدے کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر غور ہو رہا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ترکی کی شمولیت اس اتحاد کو جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک پھیلے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مضبوط بنا سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انقرہ اس اقدام کو علاقائی سلامتی بڑھانے کا ذریعہ سمجھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی سکیورٹی ترجیحات اور نیٹو کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار نہات علی اوزجان کے مطابق، ممکنہ اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، میزائل پروگرام اور افرادی قوت جبکہ ترکی کی جدید دفاعی صنعت اور عملی عسکری تجربہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ترکی پہلے ہی پاکستان کے ساتھ کارویٹ جنگی جہازوں کی تیاری، ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون ٹیکنالوجی میں تعاون کر رہا ہے، جبکہ وہ دونوں ممالک کو اپنے پانچویں نسل کے جنگی طیارے ’کان‘ پروگرام میں شامل کرنے کا خواہاں بھی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فوجی کشیدگی جنگ بندی پر ختم ہوئی، جبکہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی تناؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ترکی اور قطر نے حالیہ عرصے میں ثالثی کی کوششیں کیں، تاہم خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔





