Trump's aggressive trade move, 25% US tariffs on Iran's partner countries
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کے خلاف سخت تجارتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران سے تجارت کرے گا، اسے امریکا کے ساتھ ہر قسم کی تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران حالیہ برسوں کی شدید ترین حکومت مخالف احتجاجی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی نرمی یا نظرثانی شامل نہیں۔ ان کے مطابق ایران سے کاروباری روابط رکھنے والے ممالک کو امریکا کے ساتھ تجارت میں اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم اس فیصلے کی قانونی بنیاد یا عملی طریقہ کار سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ آیا یہ اقدام ایران کے تمام تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوگا یا مخصوص ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
ایران، جو اوپیک کا رکن اور تیل پیدا کرنے والا اہم ملک ہے، کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ایران اپنی زیادہ تر تیل برآمدات چین کو کرتا ہے، جبکہ ترکی، عراق، متحدہ عرب امارات اور بھارت بھی اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ٹیرف کی ادائیگی امریکی درآمد کنندگان کرتے ہیں، تاہم اس کے اثرات عالمی تجارت اور سپلائی چین پر مرتب ہوتے ہیں۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے امریکی اعلان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ چینی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ چین یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔
جاپان اور جنوبی کوریا، جن کے امریکا کے ساتھ گزشتہ برس تجارتی معاہدے طے پائے تھے، نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ امریکی اقدامات کی تفصیلات واضح ہونے کے بعد ضروری ردعمل دیا جائے گا، جبکہ جاپان نے ممکنہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاج کا آغاز معاشی بدحالی کے خلاف ہوا تھا جو بعد ازاں حکومت کے خلاف کھلے نعروں میں تبدیل ہو گیا۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے 2022 میں دنیا کے 147 ممالک کو برآمدات کیں، جس کے باعث ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر امریکی ٹیرف کا اطلاق عالمی تجارت اور سفارتی تعلقات پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے۔





