The roads to Parliament House have been opened, PTI and TTAP sit-in enters fourth day
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا پیر کے روز چوتھے دن میں داخل ہوگیا، جبکہ صبح کے وقت پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف جانے والے راستے کلیئر کر دیے گئے۔ دھرنا جمعے کو شروع ہوا تھا اور اس کا اعلان اُس وقت کیا گیا جب سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کا صرف 15 فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے۔
ٹی ٹی اے پی کے ترجمان اخونزادہ یوسفزئی نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ تمام راستوں کا کھل جانا حیران کن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں جاری دھرنے کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود احتجاج کے ساتھ ضم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق، چار دن بعد ہم پہلی بار ناشتہ کریں گے، اس سے پہلے ہم صرف کھجوریں اور بسکٹ کھا رہے تھے اور نلکے کا پانی پینے پر مجبور تھے۔
ذرائع کے مطابق احتجاج ابتدا میں تین مقامات پر جاری تھا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کی قیادت ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کر رہے تھے، پارلیمنٹ لاجز کے باہر پی ٹی آئی کے پارلیمانی ارکان موجود تھے، جبکہ خیبرپختونخوا ہاؤس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔
اخونزادہ یوسفزئی نے بتایا کہ حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے جا رہی ہے، جس کا جائزہ لینے کے بعد اپوزیشن اتحاد آئندہ کا فیصلہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
دوسری جانب اتوار کو ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا اور تقریباً ایک گھنٹے بعد واپس روانہ ہوگئی۔ پی ٹی آئی نے اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر ہونے والے معائنے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بدنیتی قرار دیا۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دھرنا جاری رکھیں گے تاکہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “ہم عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔” اسد قیصر کے مطابق پیر کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ادھر ٹی ٹی اے پی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں اتوار کی رات بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے گا، تاہم بعد میں پیغام ملا کہ پہلے دھرنا ختم کیا جائے۔ اپوزیشن اتحاد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ احتجاج مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔




