The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے زیرو ریسٹرینٹ کی سخت وارننگ کے بعد امریکا نے اپنے خلیجی اتحادیوں کو تقریباً 16 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ہنگامی دفاعی پیکج کی منظوری دے دی ہے، جس سے خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایران نے قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس سمیت سعودی عرب اور کویت کی اہم آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ قطری حکام کے مطابق حملوں سے گیس تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا ہے اور پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے قطر پر حملے جاری رکھے تو امریکا شدید ردعمل دے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال زمینی فوج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی حکام مزید فوجی تعیناتی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے اکیلے کیا، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ادھر عالمی توانائی منڈی اس تنازع سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ یورپی گیس کی قیمتوں میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
خلیجی ممالک نے بھی سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی عرب نے ڈرون حملے کے بعد جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ کویت میں آئل ریفائنریز پر حملوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ بحرین میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیج میں تیل و گیس کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔



