غزہ سے تین یرغمالیوں کی باقیات موصول ہوئیں، جب کہ نازک جنگ بندی برقرار ہے،اسرائیل

غزہ سے تین یرغمالیوں کی باقیات موصول ہوئیں، جب کہ نازک جنگ بندی برقرار ہے،اسرائیل
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) این پی آر کے مطابق اسرائیل نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ غزہ سے تین یرغمالیوں کی لاشوں کے باقیات حوالے کر دی گئی ہیں، جنہیں فرانزک ماہرین کے ذریعے شناخت کے لیے معائنے سے گزارا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایک ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کے دوران سامنے آئی ہے۔
حماس نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ باقیات جنوبی غزہ میں ایک سرنگ سے اتوار کے روز ملی ہیں۔
جنگ بندی کے 10 اکتوبر سے نافذ ہونے کے بعد سے فلسطینی جنگجو 17 یرغمالیوں کی لاشوں کے باقیات اسرائیل کے حوالے کر چکے ہیں، جب کہ اتوار سے پہلے 11 یرغمالیوں کی باقیات اب بھی غزہ میں موجود تھیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان باقیات کی باضابطہ شناخت سب سے پہلے متعلقہ خاندانوں کو دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں اتوار کے روز کہا کہ واپس کیے گئے یرغمالیوں میں عومر نیوٹرہ (Omer Neutra) کی باقیات بھی شامل ہیں جو ایک امریکی-اسرائیلی شہری تھے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے نیوٹرہ کے اہل خانہ سے بات کی ہے، جو اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) میں ٹینک پلاٹون کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ماننا تھا کہ نیوٹرہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں مارے گئے تھے جس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کر کے اس جنگ کو بھڑکایا۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے والدین ایک طرف سے خوش تھے کہ ان کے بیٹے کی شناخت ہو گئی، مگر دوسری طرف ظاہر ہے کہ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے۔دوسری جانب دیئر البلح (غزہ پٹی) میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے سے متاثرہ بے گھر فلسطینی اپنے تباہ شدہ خیمہ کیمپ کا معائنہ کرتے دکھائی دیے۔
مشرق وسطیٰ تنازع
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ پر حملوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کے بعد دوبارہ جنگ بندی بحال کر دی ہے۔
حماس کے جنگجو ہر چند روز میں ایک یا دو لاشوں کی باقیات واپس کر رہے ہیں، تاہم اسرائیل تیز تر عمل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ بعض اوقات اسرائیل نے کہا ہے کہ فراہم کردہ باقیات کسی یرغمالی کی نہیں ہیں۔ حماس کے مطابق تباہ شدہ علاقوں میں تلاش کا عمل انتہائی مشکل ہے۔
یرغمالیوں کے اہل خانہ میں اس معاملے پر شدید جذبات پائے جاتے ہیں، جو ہر ہفتے احتجاجی ریلیاں نکالتے ہیں۔ ہفتے کی رات موران حراری جو مقتول کارمل گیٹ کے دوست ہیں — نے اسرائیلی حکومت سے تحمل کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا یہ لعنتی جنگ دونوں طرف کے بے شمار قیمتی جانوں کو نگل چکی ہے۔ اس بار ہمیں دوبارہ اسی چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔اسرائیل نے بدلے میں 15 فلسطینیوں کی لاشوں کی باقیات واپس کی ہیں تاکہ ایک اسرائیلی یرغمالی کی باقیات حاصل کی جا سکیں۔






