Protest limited to Parliament House, presence on streets not party call Afridi
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی سڑکوں پر موجودگی کے باوجود تحریکِ انصاف نے کسی باقاعدہ احتجاجی کال کا اعلان نہیں کیا۔ پیر کو جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی حکمتِ عملی واضح ہے اور احتجاج کو پارلیمنٹ ہاؤس تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پرامن دھرنا دے رہے ہیں، جس کی قیادت محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد پارلیمنٹیرینز کو راستے میں روکا گیا، تاہم دھرنا جاری رہا اور ابھی تک پارٹی کی جانب سے کوئی سرکاری احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
سہیل آفریدی نے دھرنے کو مہذب اور آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت کہ ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا، اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج قانون کے دائرے میں ہے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر احتجاج میں شرپسند عناصر شامل کر کے بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے کیونکہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی قید میں ہیں۔ ان کے مطابق کارکن جذباتی ہو سکتے ہیں، مگر انہیں صبر اور ضبط کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ایک منظم سیاسی جماعت ہے اور احتجاج یا آئندہ حکمتِ عملی سے متعلق فیصلے صرف عمران خان کی نامزد قیادت کرے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ عمران خان کی صحت سے متعلق ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا مطالبات پورے ہونے تک جاری رکھا جائے گا۔ اجلاس کے بعد پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بتایا کہ آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے، جبکہ اتحاد نے دھرنا ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مانگ ہے کہ پی ٹی آئی بانی کے ذاتی ڈاکٹر کو اُن سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اتحاد کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ پر دھرنا دوبارہ شروع ہوا اور ارکان نے نعرے بازی کی۔ رپورٹ کے مطابق مشاورتی اجلاس میں بعض ارکان نے سوشل میڈیا پر جاری مہم اور پی ٹی آئی بانی کی بہنوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر بھی تشویش ظاہر کی، جبکہ کچھ اراکین نے پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے حوالے سے وضاحت مانگی کہ معاملات خاندان چلائے گا یا سیاسی کمیٹی کے ذریعے فیصلے ہوں گے۔




