Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • South Asia
  • Ticker
  • Top News
  • آج کے کالمز
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

پاکستان–سعودیہ دفاعی معاہدے میں ایٹمی پہلو؟ وزیردفاع کے متضاد بیانات سے قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئیں

1 minute read
khawaja-asif-4

“پاکستان–سعودیہ دفاعی معاہدے میں ایٹمی پہلو؟ وزیردفاع کے متضاد بیانات سے قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئیں“

اسلام آباد/ریاض — پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ریاض میں ہونے والے اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ نے جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچا دیا ہے، وہیں وزیردفاع خواجہ آصف کے متضاد بیانات نے اس معاہدے کے ممکنہ ایٹمی پہلو پر عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

وزیردفاع کے متضاد بیانات

خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی شو میں کہا تھا:

“جو کچھ ہمارے پاس ہے، اور جو صلاحیتیں رکھتے ہیں، وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گی۔”

اس بیان کو عالمی میڈیا نے اس امکان کے طور پر لیا کہ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیتیں سعودی عرب تک بڑھا سکتا ہے۔

تاہم اگلے دن انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا:

“ایٹمی ہتھیار اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں، یہ معاملہ بالکل ریڈار پر نہیں ہے۔”

دفتر خارجہ کا محتاط ردعمل

ترجمان دفتر خارجہ شفقات علی خان نے اس موضوع پر محتاط لب و لہجہ اپنایا اور کہا:

“پاکستان کی حکمتِ عملی ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے اور اس کا ارتقاء جاری ہے۔”

جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا پاکستان اپنی ایٹمی پالیسی بھارت تک محدود رکھنے کے مؤقف سے ہٹ رہا ہے، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

سعودی مؤقف اور اعلامیہ

معاہدے کے بعد سعودی ذرائع نے غیر رسمی طور پر اشارہ دیا کہ ریاض کو “ایٹمی تحفظ” مل سکتا ہے۔ تاہم مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ:

“یہ معاہدہ دفاعی تعاون کو بڑھانے اور مشترکہ جارحیت کے خلاف باز deterrence قائم کرنے کے لیے ہے، اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔”

عالمی میڈیا کا ردعمل

  • رائٹرز (Reuters):

نے اس معاہدے کو “potential nuclear dimension” کے تناظر میں رپورٹ کیا اور لکھا کہ خواجہ آصف کے بیانات نے دنیا بھر میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

  • الجزیرہ (Al Jazeera):

نے اس خبر کو “Muslim security alliance” کے تناظر میں پیش کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا یہ معاہدہ دراصل ایک “مسلم نیٹو” کی طرف پہلا قدم ہے؟

  • ٹائمز آف انڈیا (Times of India):

نے اسے “خطے میں اسٹریٹجک توازن کے لیے خطرہ” قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر پاکستان ایٹمی تحفظ سعودی عرب تک بڑھاتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام کو متاثر کرے گا۔

  • واشنگٹن پوسٹ (Washington Post):

نے لکھا کہ امریکہ محتاط انداز میں اس معاہدے کو دیکھ رہا ہے کیونکہ واشنگٹن سعودی عرب کو پہلے ہی اپنے دفاعی نظام میں شامل رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

معروف تجزیہ کار ڈاکٹر معید یوسف نے کہا:

“پاکستان کو اپنی ایٹمی پالیسی کے بارے میں ابہام پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے، لیکن معاہدہ یقینی طور پر پاکستان کے لیے سفارتی اور اسٹریٹجک کامیابی ہے۔”

عرب تجزیہ کار ڈاکٹر عبداللہ الشمری نے الجزیرہ کو بتایا:

“یہ معاہدہ صرف پاکستان–سعودیہ تعلقات کا نہیں بلکہ ایک بڑے مسلم سکیورٹی اتحاد کی طرف قدم ہے۔”

دفاعی امور کے ماہر ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کے مطابق:

“اگرچہ اس معاہدے میں ایٹمی پہلو براہِ راست شامل نہیں، لیکن اس بحث نے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔”

وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی وضاحت

لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا:

“کچھ دوسرے ممالک بھی اس طرح کے دفاعی معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ راتوں رات نہیں ہوا بلکہ کئی ماہ کی بات چیت کا نتیجہ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:
“سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، چاہے وہ پابندیوں کا دور ہو یا 2022-23 کا معاشی بحران۔”

پاکستان–سعودیہ دفاعی معاہدہ خطے میں نئی سفارتی اور اسٹریٹجک جہتیں کھول رہا ہے۔ وزیردفاع کے متضاد بیانات اور عالمی میڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے اس کے “ایٹمی پہلو” کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم اسلام آباد اور ریاض دونوں اس معاہدے کو “دفاعی اور علاقائی استحکام” کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان–سعودیہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک “اسٹریٹجک سگنل” کی حیثیت رکھتا ہے۔

Tags: Deterrence Nuclear Pakistan Saudi Arabia Defense Agreement اسرائیل اقوام متحدہ امریکہ پاکستان پاکستان اسٹاک ایکسچینج سعودی عرب غزہ فلسطین

Post navigation

Previous: طالبان حکومت نے 679 کتب پر پابندی عائد کر دی، خواتین مصنفات کی 140 کتابیں بھی شامل
Next: دوحہ سربراہ اجلاس میں مصر کی نیٹو طرز کی عرب دفاعی فورس کی تجویز مسترد:عرب میڈیا ذرائع

Pakistan's Growing Mediation Role in Global Disputes A Look at Diplomatic History
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

عالمی تنازعات میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ثالثی کردار:سفارتی تاریخ پر ایک نظر

Peace talks Chances of immediate agreement low, but diplomatic progress important Report
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امن مذاکرات:فوری معاہدے کے امکانات کم، مگر سفارتی پیش رفت اہم قرار: رپورٹ

Important US-Iran talks in Islamabad, Pakistan becomes the center of global attention
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

یہ بھی پڑہیے

Glenn Maxwell arrives in Pakistan to play PSL-FB
  • کھیل

گلین میکسویل پی ایس ایل کھیلنے پاکستان پہنچ گئے

Pakistan's Growing Mediation Role in Global Disputes A Look at Diplomatic History
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

عالمی تنازعات میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ثالثی کردار:سفارتی تاریخ پر ایک نظر

Peace talks Chances of immediate agreement low, but diplomatic progress important Report
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امن مذاکرات:فوری معاہدے کے امکانات کم، مگر سفارتی پیش رفت اہم قرار: رپورٹ

Important US-Iran talks in Islamabad, Pakistan becomes the center of global attention
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

Calendar

April 2026
MTWTFSS
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930 
« Mar    

Top News

Pakistan's Growing Mediation Role in Global Disputes A Look at Diplomatic History
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

عالمی تنازعات میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ثالثی کردار:سفارتی تاریخ پر ایک نظر

Peace talks Chances of immediate agreement low, but diplomatic progress important Report
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امن مذاکرات:فوری معاہدے کے امکانات کم، مگر سفارتی پیش رفت اہم قرار: رپورٹ

Important US-Iran talks in Islamabad, Pakistan becomes the center of global attention
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

Iran War 42nd day of US-Israeli attacks, tensions remain despite ceasefire
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

ایران جنگ: امریکی-اسرائیلی حملوں کا 42واں دن، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار

Iran does not want war, but there will be no compromise on rights: Supreme Leader
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ایران جنگ نہیں چاہتا مگر حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: مجتبیٰ خامنہ ای

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.