Operations in the UAE intensify, missile reserves of French Rafale aircraft begin to decrease
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) اے اے کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران فرانس کو اپنے میکا ایئر ٹو ایئر میزائلز کے ذخائر میں کمی کا سامنا ہے، کیونکہ اس کے رافیل لڑاکا طیارے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں ایرانی ڈرونز کو روکنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان آپریشنز کی شدت اور تسلسل کے باعث میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس پر دفاعی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے پیرس میں اس بات پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے کہ جاری مشنز کو برقرار رکھتے ہوئے طویل المدتی دفاعی تیاری کو کیسے متاثر ہونے سے بچایا جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 28 فروری 2026 سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
جواب میں ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے ہیں، جن کا رخ اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود اہداف کی طرف ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال فرانس کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکی ہے، جہاں ایک طرف فوری خطرات کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، تو دوسری جانب مستقبل کے لیے دفاعی وسائل کو محفوظ رکھنا بھی ناگزیر ہو گیا ہے۔




