Oil crisis intensifies, new inflation storm looms - IMF warns of global economy
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر نمایاں ہونے لگے ہیں اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ تیل و گیس کی رسد متاثر ہونے سے مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی ترقی میں سست روی ناگزیر ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی تیل پیداوار میں تقریباً 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنگ کے جلد خاتمے کی صورت میں اثرات محدود رہ سکتے ہیں، تاہم طویل تنازع مہنگائی اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔ آئی ایم ایف آئندہ رپورٹ میں عالمی شرح نمو میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کی پیشگوئی کرنے جا رہا ہے، حالانکہ اس سے قبل 2026 کے لیے 3.3 فیصد ترقی کی توقع تھی۔
جارجیوا نے خبردار کیا کہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً غریب معیشتیں، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گی کیونکہ ان کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے مالی وسائل محدود ہیں، جس سے سماجی بے چینی کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔
ادھر توانائی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ درجنوں تنصیبات متاثر ہو چکی ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس کے اثرات کھاد اور دیگر صنعتی شعبوں تک پھیل رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور اگر حالات برقرار رہے تو نہ صرف معیشت بلکہ خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔



