Nepra's U-turn Net metering ended, net billing implemented on solar consumers, electricity from discos up to Rs 55, solar unit purchase for Rs 10
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرڈ سولر صارفین کے لیے قواعد میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کر دیا اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ نافذ کر دی ہے۔ نیپرا نے پیر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا کہ یہ فیصلہ ملک میں سولر توانائی کے تیزی سے بڑھتے استعمال، گرڈ پر دباؤ اور سرکاری بجلی کے مہنگے و غیر مؤثر نظام کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا اطلاق موجودہ اور آئندہ دونوں صارفین پر ہوگا۔
نئے ضابطوں کے مطابق پہلے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ موجودہ صارفین کے سات سالہ معاہدوں کی شرائط مدت پوری ہونے تک برقرار رہیں گی، تاہم اب تمام موجودہ رجسٹرڈ صارفین کو فوری طور پر نیٹ بلنگ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ نیپرا نے واضح کیا کہ موجودہ صارفین کے سات سالہ معاہدے اپنی مدت ختم ہونے تک برقرار رہیں گے، لیکن ان کے ایکسپورٹ یونٹس کی کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ اب تین ماہ کے بجائے صرف ایک ماہ کے لیے ہوگی۔
نیپرا کے مطابق نئے صارفین کو اب صرف پانچ سالہ معاہدہ دیا جائے گا۔ ان کے لیے بائی بیک ریٹ بھی کم کر کے 10 سے 11 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ موجودہ معاہدوں میں ایکسپورٹ یونٹس کا ریٹ 26 روپے فی یونٹ ہے۔ دوسری طرف ڈسکوز سے لی گئی بجلی اب 37 سے 55 روپے فی یونٹ (ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز کے بغیر) کے حساب سے الگ بل ہوگی، جس سے صارفین کے ماہانہ بل کے حساب کتاب میں واضح فرق آئے گا۔
نئے نظام کے تحت نیٹ میٹرنگ کی طرح یونٹ کے بدلے یونٹ ایڈجسٹمنٹ ختم ہو جائے گی۔ نیٹ بلنگ میں ڈسکو پہلے صارف کی کھپت کو لاگو ٹیرف کے مطابق بل کرے گی، جبکہ صارف کی جانب سے گرڈ کو فراہم کی گئی اضافی بجلی کو نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے تحت تقریباً 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے کریڈٹ کیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں کا فرق نکال کر صارف سے وصول کیا جائے گا۔ نیپرا نے نوٹیفکیشن میں کہا کہ اگر صارفین کی فراہم کردہ بجلی کی رقم ڈسکو کی فراہم کردہ بجلی کی رقم سے زیادہ ہو تو یہ رقم اگلے بل میں ایڈجسٹ کی جائے گی یا سہ ماہی بنیاد پر صارفین کو ادائیگی کی جائے گی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں ڈسکوز کی جانب سے ایسی ادائیگیاں بروقت نہیں کی جاتیں۔
نیپرا نے نئے قواعد میں یہ پابندی بھی شامل کی ہے کہ صارفین نیٹ بلنگ کے لیے اپنے سولر سسٹم کی گنجائش منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں بڑھا سکیں گے، جس سے عملی طور پر سولر کی اجازت یافتہ کیپسٹی میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق آن گرڈ سولر کیپسٹی 7,000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ آف گرڈ سولر کیپسٹی 13,000 میگاواٹ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ پاور وزیر کے مطابق لاکھوں صارفین نے بغیر میٹر کے ہائبرڈ سسٹمز نصب کیے، جس کے باعث مجموعی سولر کیپسٹی 19,000 میگاواٹ سے بھی بڑھ گئی، تاہم نئے قواعد بنیادی طور پر میٹرڈ سولر صارفین پر لاگو ہوں گے۔






