Murder after Trump debate British girl killed by father in Texas
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی کی خبر کے مطابق 23 سالہ برطانوی شہری لوسی ہیریسن کی ٹیکساس میں اپنے والد کی گولی لگنے سے ہلاکت کے معاملے میں انکوئسٹ کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ واقعے کے روز لوسی اور ان کے والد کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے شدید بحث ہوئی تھی۔ لوسی ہیریسن کا تعلق وارنگٹن، چیشائر سے تھا اور وہ فیشن بائر کے طور پر کام کرتی تھیں۔
انکوئسٹ میں بتایا گیا کہ لوسی جنوری 2025 میں ٹیکساس کے شہر پراسپر میں اپنے والد کرس ہیریسن اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم تھیں۔ لوسی کے بوائے فرینڈ سیم لِٹلر، جو ان کے ساتھ امریکا گئے تھے، نے چیشائر کورونر کورٹ کو بتایا کہ لوسی اکثر اپنے والد کی گن اونرشپ (اسلحہ رکھنے) سے متعلق گفتگو پر پریشان ہو جاتی تھیں۔ ان کے مطابق 10 جنوری کی صبح—جس روز وہ دونوں واپس برطانیہ روانہ ہونے والے تھے—لوسی اور کرس ہیریسن کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ پر بڑا جھگڑا ہوا، جس کے بعد لوسی روتی ہوئی اوپر چلی گئیں۔
گواہی کے مطابق اسی بحث کے دوران لوسی نے اپنے والد سے پوچھا کہ اگر ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہو جائے تو وہ کیسا محسوس کریں گے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ والد نے جواب دیا کہ ان کی دو دوسری بیٹیاں بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں، اس لیے یہ بات انہیں اتنا زیادہ متاثر نہیں کرے گی۔
سیم لِٹلر نے بتایا کہ ایئرپورٹ روانگی سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل کرس ہیریسن نے لوسی کا ہاتھ پکڑا اور انہیں گھر کے گراؤنڈ فلور بیڈ روم میں لے گئے۔ ان کے مطابق تقریباً 15 سیکنڈ بعد ایک زور دار آواز سنائی دی، جس کے بعد کرس ہیریسن چیختے ہوئے اپنی اہلیہ ہیدر کو پکارنے لگے۔ سیم لِٹلر کے مطابق جب وہ کمرے میں پہنچے تو لوسی باتھ روم کے قریب فرش پر پڑی تھیں اور کرس ہیریسن چیخ رہے تھے۔
لوسی کی والدہ جین کوٹس نے بیٹی کو زندگی سے بھرپور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حساس اور پرجوش تھیں اور اہم موضوعات پر بحث کرنا پسند کرتی تھیں۔ انکوئسٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا میں ایک گرینڈ جیوری نے لوسی کی موت کے معاملے میں کسی کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے لیے ناکافی شواہد قرار دیے۔ سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کرس ہیریسن ماضی میں شراب نوشی کی لت کے باعث ریہیب جا چکے ہیں۔
کرس ہیریسن سماعت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم ان کی نمائندہ آنا سیموئیل نے کہا کہ یہ کارروائی حقائق معلوم کرنے کے بجائے ایک حد تک فوجداری تحقیقات جیسی لگتی ہے۔ دوسری جانب کرس ہیریسن نے اپنے وکلا کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ وہ اپنے عمل کے نتائج کو مکمل طور پر قبول کرتے ہیں اور انہیں ہر روز اس نقصان کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وہ لوسی کی یاد کو زندہ رکھ کر اور اس کی بہنوں کے لیے بہترین باپ بن کر اس کا احترام کرنا چاہتے ہیں۔ انکوئسٹ کے منگل کو مکمل ہونے کی توقع ہے۔




