May 9 case KP CM identified in Radio Pakistan attack videos
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق 9 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان کے دفتر پر حملے کے مقدمے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں استغاثہ نے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنما مبینہ ویڈیو کلپس میں شناخت ہوئے ہیں۔
فرانزک رپورٹ ان ویڈیوز پر مبنی ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور میں توڑ پھوڑ سے متعلق بتائی جاتی ہیں۔ عدالت نے گزشتہ ماہ ویڈیوز کے فرانزک معائنے کا حکم دیا تھا، جس پر دفاع کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔
استغاثہ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، اور پی ٹی آئی رہنماؤں عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کی تصاویر اور ویڈیوز جانچ کے لیے فراہم کی گئیں، حالانکہ ان میں سے کسی کو بھی تاحال مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں : ایران مذاکرات پر آمادہ، ملاقات کی تیاری جاری ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
فرانزک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو ایس بی میں موجود ویڈیوز مستند ہیں اور ان میں نظر آنے والے افراد فراہم کی گئی پروفائل تصاویر سے مطابقت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ویڈیوز میں کسی قسم کی تکنیکی ردوبدل نہیں کی گئی، البتہ مختلف کیمروں کی فوٹیج کو یکجا کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ مناظر براہِ راست ریڈیو پاکستان حملے ہی سے متعلق ہیں یا کسی اور واقعے کے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس رپورٹ کی بنیاد پر تفتیشی افسر ضمنی چالان کے ذریعے مزید افراد کو نامزد کر سکتا ہے، جبکہ عدالت بھی خود کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی رہنماؤں نے فرانزک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو کلپس کا ریڈیو پاکستان حملے سے کوئی تعلق نہیں۔ سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ ان سے منسوب ویڈیو اسلام آباد میں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی ہے، نہ کہ پشاور کی۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 26 جنوری کو مقرر کر رکھی ہے۔ اس کیس میں مجموعی طور پر 75 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے، جبکہ مقدمہ 10 مئی 2023 کو درج کیا گیا تھا۔
ادھر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ فرانزک رپورٹ میں ریڈیو پاکستان حملے سے متعلق ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے ہیں اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔





