Kazakh President's strategic visit to Pakistan, dream of reaching Europe from Central Asia
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف 3 اور 4 فروری کو پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے اور اس کا مقصد پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور تعاون کے نئے پہلوؤں پر پیش رفت کرنا ہے۔
دورے کے دوران صدر توقایف صدرِ پاکستان سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم کے ساتھ باضابطہ مذاکرات ہوں گے جبکہ وہ پاکستان-قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔ قازق صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی آئے گا، جس میں سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان اور قازقستان کے تعلقات دوستانہ بنیادوں پر استوار ہیں اور قازقستان وسطی ایشیا میں پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ قازقستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت پاکستان کو روس، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ تک زمینی و تجارتی رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ رقبے اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے قازقستان خطے کی سب سے بڑی معیشت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کو دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے اور تجارت، لاجسٹکس، علاقائی رابطہ کاری، عوامی روابط اور علاقائی و عالمی فورمز پر تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے، جو خطے میں امن اور ترقی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ دورہ خود کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم زمینی پل کے طور پر اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ قازقستان کے لیے موجودہ صورتحال، بالخصوص روس-یوکرین جنگ کے بعد، عالمی تجارت کو متنوع بنانے کا ایک مؤثر موقع ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں قازق نائب وزیراعظم مرات نرتلو کے دورۂ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایکشن پلان آف کوآپریشن پر دستخط کیے گئے تھے، جس پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے میں یہ دورہ اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔




