Decisive moment in Geneva US pressure on Iran's missile program, new round of talks
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہو رہا ہے، جہاں دونوں فریق بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کریں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن خطے میں فوجی موجودگی بڑھا چکا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کی وارننگ دے چکے ہیں۔
اپنے حالیہ خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران پر خطرناک جوہری عزائم کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور بیرونِ ملک امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اور جلد امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان دعوؤں کو بڑے جھوٹ قرار دیا ہے۔ تہران کے مطابق اس کے میزائلوں کی حدِ مار دو ہزار کلومیٹر ہے، جبکہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں اسے تقریباً تین ہزار کلومیٹر تک بتایا گیا ہے۔
تنازع کی بنیاد ایران کا جوہری پروگرام ہے، جسے مغربی ممالک ہتھیاروں کی تیاری سے جوڑتے ہیں، تاہم ایران اسے پُرامن قرار دیتا ہے۔ امریکا اب میزائل پروگرام اور اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ بیلسٹک میزائلوں پر بات چیت سے انکار بہت بڑا مسئلہ ہوگا، اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ جوہری معاملے سے ہٹ کر کسی موضوع پر بات نہیں ہوگی اور معاشی پابندیوں کا خاتمہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔ ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ اس عمل سے نہ جنگ نہ امن کی کیفیت ختم ہو سکتی ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے وزیر خارجہ عباس اراغچی نے اسے تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کا انحصار دوسرے فریق کی سنجیدگی پر ہے۔
گزشتہ برس اسرائیل کے حملوں کے بعد 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، جس میں امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، اور مذاکراتی عمل رک گیا تھا۔ اب عمان کی ثالثی میں جاری اس عمل کو خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے



