Deadly attack on girls' school in Iran, 148 students martyred, dozens injured
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر مناب میں واقع شجرۂ طیّبہ گرلز ایلیمنٹری اسکول پر مبینہ فضائی حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 148 ہو گئی ہے جبکہ قریباً 100 افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملہ اُس وقت ہوا جب اسکول میں صبح کی کلاسز جاری تھیں اور تقریباً 170 طالبات موجود تھیں۔
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی کارروائیوں کے دوران کیا گیا، تاہم اسرائیلی فوج نے کسی بھی اسکول کو نشانہ بنانے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی کے مطابق اس مقام پر کسی اسرائیلی یا امریکی حملے کی تصدیق نہیں ہوئی اور کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان کے ترجمان نے کہا ہے کہ شہری نقصان سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بیان میں شہریوں کے تحفظ کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ غیر ارادی نقصان کم سے کم رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔
واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق اور جغرافیائی نشاندہی کی گئی، میں عمارت کا ایک حصہ منہدم اور اطراف میں ملبہ بکھرا دکھائی دیتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق امدادی کارکن اور مقامی افراد ملبے سے متاثرین کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔
ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ نے کہا کہ واقعے کے وقت اسکول میں صبح کی شفٹ جاری تھی اور متعدد طالبات کلاسوں میں موجود تھیں۔ تنظیم نے شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
نوبل امن انعام یافتہ اور تعلیمِ نسواں کی علمبردار نے اپنے بیان میں کہا کہ بچیاں تعلیم کے خواب لے کر اسکول آئی تھیں اور عالمی برادری کو شہریوں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے۔






