Board of Peace meeting Foreign Office confirms Prime Minister Shehbaz Sharif’s departure for the US
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ڈان نیوز کی خبر کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرآبی نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف امریکا میں ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کے وفد کے دیگر ارکان اور ملاقاتوں سے متعلق تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔
ترجمان کی یہ تصدیق ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم 18 فروری کو واشنگٹن جائیں گے اور 19 فروری کو امریکی ادارے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ طاہر اندرآبی نے کہا، میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ وزیراعظم آئندہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان کے ساتھ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ بھی ہوں گے۔
پاکستان ان 14 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 22 جنوری کو ڈیووس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے تھے اور یوں پاکستان اس ادارے کا بانی رکن بنا۔ یہ بورڈ ستمبر 2025 میں تجویز کیا گیا تھا اور گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر قائم کیا گیا۔ چارٹر کے مطابق امریکی حکومت اس ادارے کی سرکاری ڈپازٹری ہوگی، جبکہ صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کو بورڈ کا ہیڈکوارٹر قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد، جو نومبر 2025 کے وسط میں منظور ہوئی تھی، نے بورڈ آف پیس اور تعاون کرنے والی ریاستوں کو اختیار دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس قائم کر سکیں۔ تاہم جنگ بندی کو کمزور قرار دیا گیا ہے اور اسرائیل کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ٹرمپ کے غزہ پلان کے تحت بورڈ کا ابتدائی مقصد غزہ کی عبوری گورننس کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کے دائرہ کار کو دیگر عالمی تنازعات تک بڑھایا گیا۔
بریفنگ میں ایک صحافی نے سوال اٹھایا کہ بورڈ میں غزہ کی نمائندگی نہیں اور امریکا اسرائیل کا حامی ہے، تو یہ فورم غزہ کے عوام کے لیے کتنا قابلِ اعتماد ہوگا؟ اس پر طاہر اندرآبی نے کہا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس پلیٹ فارم پر تنہا نہیں بلکہ آٹھ اسلامی-عرب ممالک کی اجتماعی آواز کے ساتھ شامل ہوا ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے کوشش جاری رکھے گا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کا مقصد فلسطین کے مسئلے کا طویل المدت حل ہے، یعنی 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اسی بریفنگ میں ترجمان سے امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر بھی وضاحت مانگی گئی جس میں انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ کشیدگی کے دوران 10 طیارے مار گرائے جانے کا ذکر کیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان 90 گھنٹے کی جنگ کے دوران امریکا کے کردار کو سراہتا ہے، کیونکہ امریکا نے امن اور جنگ روکنے کی کوشش کی۔ طیاروں کے سوال پر انہوں نے کہا، یہ تاریخ کا معاملہ ہے، اور دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بھارت کے متعدد رافیل طیارے مار گرائے تھے اور اس کے شواہد بین الاقوامی سطح پر موجود ہیں۔




