Supply crisis in Rawalpindi and Islamabad intensified due to tight security
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق سخت سکیورٹی اقدامات اور سڑکوں کی بندش کے باعث جڑواں شہروں میں مال بردار ٹرانسپورٹ معطل ہونے سے اشیائے خورونوش اور ایندھن کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے، جس سے آئندہ دنوں میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
آئل ٹینکر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نعمان علی بٹ کے مطابق ٹینکرز کی نقل و حرکت رکنے سے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پشاور اور اسلام آباد ایئرپورٹس کے لیے ایندھن کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ ٹینکرز ڈپو میں رکے ہوئے ہیں۔
راولپنڈی گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل قریشی نے بتایا کہ 19 اپریل سے سڑکوں کی بندش کے باعث اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی ترسیل بند ہے، جس سے نہ صرف منڈیاں متاثر ہوئیں بلکہ دیہاڑی دار مزدور بھی بے روزگار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مال بردار گاڑیوں کو موٹروے کے ذریعے سپلائی کی اجازت دی جائے تاکہ بحران کم کیا جا سکے۔
فروٹ و ویجیٹیبل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر قادر میر کا کہنا ہے کہ شہر میں گزشتہ چند دنوں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے، اور اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد کی مرکزی سبزی منڈی میں بھی کاروبار تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے۔
ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سیکریٹری سید اسعد شیرازی کے مطابق ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پنجاب حکومت کو بھجوا دیے گئے ہیں، اور اجازت ملتے ہی مال بردار ٹرانسپورٹ بحال کر دی جائے گی۔




