Drones destroyed near Rawalpindi, four people injured in Quetta, Kohat and Rawalpindi
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق آئی ایس پی آر نے جاری ایک بیان مہں بتایا کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی حدود میں بھیجے گئے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا، تاہم مختلف مقامات پر گرنے والے ملبے کے باعث چار شہری زخمی ہو گئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جمعہ کی شام دو ڈرون راولپنڈی کے قریب مختلف مقامات کی جانب بڑھ رہے تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز اور دفاعی کارروائی کے ذریعے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی گرا دیا۔ فوجی ترجمان کے مطابق ڈرونز کو سافٹ اور ہارڈ کِل طریقہ کار کے تحت ناکارہ بنایا گیا۔
فوج کے بیان کے مطابق ڈرون حملوں کے نتیجے میں کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرونز اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے اور کسی فوجی یا حساس تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ حملے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش تھے اور یہ افغان طالبان کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کیلئے خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں مگر دوسری جانب دہشت گرد گروہوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق آپریشن غضبِ لِلحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے مسئلے کا مؤثر حل نہیں نکالا جاتا۔ سکیورٹی فورسز نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی اور اس کی ہر شکل کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ادھر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کے شیڈول میں مختصر ردوبدل کیا گیا، تاہم بعد میں وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام آباد کی فضائی حدود بند ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں
صدر آصف علی زرداری نے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔




