Russia's strong reaction to Khamenei's assassination, Putin expresses condolences to Iran — calls for immediate ceasefire
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ماسکو ٹایٔمز کے مطابق روسی صدرولادیمیر پوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کو تعزیتی پیغام بھیجا ہے۔ کریملن کی جانب سے جاری بیان میں پیوٹن نے اس واقعے کو انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو روس میں ایک بااثر اور مدبر رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے روس۔ایران تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کو سپریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کی، جس کے بعد ایران نے جوابی میزائل کارروائیوں کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے تہران سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں : خامنہ ای کی شھادت ،کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر پرتشدد احتجاج، 10 افراد جاں بحق، 31 زخمی
روسی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ماسکو میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ اور گہرے افسوس کی فضا ہے۔ وزارت نے سیاسی رہنماؤں کے قتل اور خودمختار ریاستوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی عمل کی بحالی پر زور دیا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ حالیہ حملے خطے کو انسانی، معاشی اور ممکنہ طور پر ریڈیالوجیکل بحران کے دہانے تک لے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی۔اسرائیلی کارروائیوں کو سفارت کاری سے غداری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے الزامات “مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور یہ حملے خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ روسی فضائی اتھارٹی نے اسرائیل اور ایران کے لیے کمرشل پروازیں غیر معینہ مدت تک معطل کر دی ہیں۔





