US Supreme Court rules Trump's global tariffs illegal
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے وسیع عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی معاشی حکمت عملی کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ چھ کے مقابلے میں تین ججوں کے فیصلے میں چیف جسٹس جان رابرٹس نے قرار دیا کہ انیس سو ستتر کے بین الاقوامی ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کے تحت صدر کو براہِ راست اور ہمہ گیر ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کانگریس صدر کو اتنا غیر معمولی اختیار دینا چاہتی تو وہ اسے قانون میں صاف طور پر درج کرتی۔ یہ فیصلہ اسٹیل، ایلومینیم اور دیگر مخصوص شعبوں پر عائد علیحدہ ٹیرف پر لاگو نہیں ہوگا، کیونکہ وہ مختلف قانونی بنیادوں پر نافذ کیے گئے تھے۔
فیصلے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے انتہائی مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ وہ عدالت کے بعض ارکان کے فیصلے پر بالکل شرمندہ ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر دس فیصد اضافی عالمی ٹیرف عائد کرے گا اور متبادل قانونی راستے اختیار کرے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، یہ فیصلہ میرے اختیارات کو کم نہیں کرتا بلکہ مزید واضح کرتا ہے۔ میں اس سے بھی زیادہ ٹیرف لگا سکتا ہوں، طریقہ کار کچھ وقت لے گا مگر نتیجہ امریکہ کے حق میں ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے حکومت کو تقریباً ایک سو چالیس ارب ڈالر کے محصولات کا ممکنہ نقصان ہو سکتا ہے۔ ییل یونیورسٹی کے بجٹ لیب کے اندازے کے مطابق مؤثر اوسط ٹیرف کی شرح سولہ اعشاریہ نو فیصد سے کم ہو کر نو اعشاریہ ایک فیصد رہ جائے گی، تاہم یہ اب بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطحوں میں شامل ہے۔
کاروباری تنظیموں نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے امریکی کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے استحکام قرار دیا، جبکہ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اسے صارفین کے لیے ریلیف بتایا۔ تاہم صدر کے پاس اب بھی مخصوص قوانین کے تحت محدود پیمانے پر ٹیرف نافذ کرنے کے راستے موجود ہیں۔




