PEKA case Non-bailable arrest warrant issued for KP CM Sohail Afridi
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسلام آباد کی ایک عدالت نے منگل کے روز خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف پیکا کے تحت درج مقدمے میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں وزیرِاعلیٰ پر ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر گمراہ کن اور ہتک آمیز بیانات دینے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
سینئر سول جج عباس شاہ کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے نوٹ کیا کہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی متعدد بار طلبی کے باوجود ایک بار پھر پیش نہیں ہوئے۔ اس پر عدالت نے ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ کیس کی آئندہ سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔
عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیرِاعلیٰ کی عدم حاضری پر کارروائی کی گئی ہو۔ گزشتہ ماہ بھی اسی عدالت نے ان کی مسلسل غیر حاضری اور عدالتی طلبی کو نظر انداز کرنے پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ وزیرِاعلیٰ کا رویہ قانونی کارروائی سے بچنے کی دانستہ کوشش کے مترادف ہے اور انہیں متعدد مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ایف آئی آر 9 نومبر 2025 کو درج کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق 8 نومبر کو ہونے والی انکوائری میں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ وزیرِاعلیٰ اور دیگر افراد نے جان بوجھ کر، بدنیتی اور مخصوص مقاصد کے تحت ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے، گمراہ کن، توہین آمیز اور دھمکی آمیز بیانات دیے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ یہ بیانات ریکارڈ کیے گئے، سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے اور وسیع پیمانے پر شیئر کیے گئے، جن میں پی ٹی آئی کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو کا حوالہ بھی شامل ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو میں موجود مواد میں توہین آمیز، غیر شائستہ، جھوٹے، گمراہ کن اور بے بنیاد الزامات شامل تھے، جن کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا، ان کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچانا تھا۔ تفتیشی حکام نے مزید الزام عائد کیا کہ یہ مواد ایک منظم مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد عوامی اعتماد کو کمزور کرنا، بے چینی کو ہوا دینا، نسلی نفرت کو بڑھانا اور قومی سلامتی کو غیر مستحکم کرنا تھا۔
حکام کے مطابق وزیرِاعلیٰ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جعلی اور گمراہ کن مواد کی تیاری، اشاعت اور ترسیل میں کردار ادا کیا، جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس، افراتفری اور بدامنی پھیلانا اور ریاست مخالف جذبات کو ہوا دینا تھا، جسے پاکستان کی سلامتی، یکجہتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔





