ایران اور امریکا کشیدگی: مذاکرات، دھمکیاں:امریکی اور ایرانی رہنماؤں کے بیانات

ایران اور امریکا کشیدگی: مذاکرات، دھمکیاں:امریکی اور ایرانی صدرو کے بیانات
واشنگٹن/تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے اپنے بیانات دیے ہیں، جو دونوں ملکوں کے موقف کو واضح کرتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر ایران کے ساتھ حقیقی معاہدہ نہ ہوا تو پہلے سے بدترین بمباری ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی جنگی جہاز، فوجی اور ہتھیار ایران کے آس پاس تعینات رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر دشمن کے خلاف مہلک کارروائی کی جا سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاہدہ پہلے ہی طے پایا تھا، اور حقیقی معاہدے تک یہ صورتحال برقرار رہے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات کیے، اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔ مذاکرات اس ہفتے شروع ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، اور پابندیاں کم کرنے کے لیے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ نائب صدر نے ایرانیوں کو مذاکرات میں سنجیدگی سے آنے کا پیغام دیا اور کہا کہ اگر ایران جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو شامل کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا انتخاب ہوگا، مگر ایسا معاہدے کا حصہ نہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، صدر پزشکیان نے جنوبی ایران میں لاوان آئل ریفائنری پر حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضائی نے بھی کہا کہ لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو دشمن کو سخت جواب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور جنگ بندی کے ٹوٹنے کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
یہ بیانات ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، ممکنہ مذاکرات اور خطے میں سلامتی کی صورتحال کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ دونوں رہنما اپنی اپنی فوجی اور سفارتی اختیارات واضح کر رہے ہیں۔



