Turkey-Israel tensions escalate, Netanyahu makes serious accusations and harsh statements
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔
یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب ترکیہ نے 2025 میں غزہ جانے والے سمود فلوٹیلا پر اسرائیلی بحری کارروائی کے خلاف اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت پر مقدمات قائم کیے۔ ترک حکام کے مطابق ان مقدمات میں ہزاروں سال قید اور عمر قید جیسی سزائیں طلب کی گئی ہیں۔
ترک وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں اور امن عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ بیان میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہبین الاقوامی فوجداری عدالت پہلے ہی ان کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات پر وارنٹ جاری کر چکا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی قیادت نے ترکیہ کے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے ترکیہ پر تنقید کرتے ہوئے اسے کھوکھلا مؤقف قرار دیا۔
استنبول پراسیکیوٹر آفس کے مطابق 35 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی ہے، جن میں نیتن یاہو بھی شامل ہیں۔ ان پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، غیر قانونی حراست اور دیگر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔
اس واقعے کے دوران متعدد بین الاقوامی شخصیات کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔




