Trump's China visit expected in May, delayed due to Iran war
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی کے وسط میں چین کا دورہ کریں گے اور چینی صدرشی جن پنگ سے براہِ راست ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ وہ 14 اور 15 مئی کو بیجنگ کا دورہ کریں گے، جبکہ اسی سال کے دوران چینی صدر کو واشنگٹن کے جوابی دورے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے اس ملاقات کو تاریخی اوراہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے نمائندے اس حوالے سے تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
دوسری جانب چین کے سفارت خانے نے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، کیونکہ بیجنگ کی جانب سے روایتی طور پر صدر شی جن پنگ کے دوروں کا شیڈول آخری لمحات میں ہی جاری کیا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا آخری دورہ چین 2017 میں ہوا تھا، جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری بالمشافہ ملاقات اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہوئی تھی جہاں تجارتی کشیدگی میں عارضی کمی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس دو روزہ دورے میں رسمی تقریبات کے ساتھ ساتھ اہم سفارتی مذاکرات بھی ہوں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ زراعت اور طیارہ سازی کے شعبوں میں کچھ مثبت معاہدے طے پا سکتے ہیں، تاہم تائیوان کا معاملہ بدستور ایک بڑا تنازع رہے گا ۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی دوسری مدت میں تائیوان کو اسلحے کی فروخت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس پر چین نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کا اندازہ چار سے چھ ہفتوں کے درمیان لگایا جا رہا ہے، اور اسی تناظر میں چین کے دورے کی نئی تاریخ طے کی گئی۔ ان کے مطابق صدر شی جن پنگ نے دورے میں تاخیر کی وجوہات کو سمجھا اور اس پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں امریکی صدر کی اپنے ملک میں موجودگی ضروری تھی۔




