Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • پاکستان

پارلیمنٹ میں کسی ایجنسی کے بجائے عوام کے نمائندے ہونے چاہئیں، فضل الرحمٰن

پارلیمنٹ میں کسی ایجنسی کے بجائے عوام کے نمائندے ہونے چاہئیں، فضل الرحمٰن

پارلیمنٹ میں کسی ایجنسی کے بجائے عوام کے نمائندے ہونے چاہئیں، فضل الرحمٰن

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سیاست میں مداخلت پر اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں کسی ایجنسی کے بجائے عوام کے نمائندے ہونے چاہئیں۔

رپورٹ کے مطابق جے یو آئی ف کے سربراہ 8 فروری کے عام انتخابات کو متعدد بار مسترد کرچکے ہیں اور وہ مسلسل اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن گزشتہ کئی ماہ کے دوران متعدد بار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں سے ملاقاتیں کرچکے ہیں، جو مبینہ انتخابی دھاندلی اور بیرونی قوتوں کی جانب سے ’حکومتیں بنانے اور ختم کرنے میں کردار‘ پر ناراض دکھائی دیتے ہیں۔

ہفتہ کو مظفر گڑھ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ نے ’سیاست میں مداخلت‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ لوگوں کا حق ہے اور حکومتیں عوام کی مرضی کے مطابق بننی چاہئیں، چاہے کوئی کتنا ہی طاقت کیوں نہ رکھتا ہو۔

انہوں نے طاقتور حلقوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ قوم ان کی طاقت کو نظر انداز کرتی ہے اور غلامی کو قبول نہیں کرے گی، آپ اپنے محلوں میں بیٹھ کر لوگوں کے حقوق کا مذاق نہیں اڑاسکتے اور ان نہ ہی ان کے ووٹوں کی بے قدری کرسکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے الزام عائد کیا کہ موجودہ اسمبلیاں ’اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھتی ہیں‘ اور یہ عوام کی نمائندگی نہیں کرتیں، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہم پارلیمنٹ کو عوام کا نمائندہ ادارہ سمجھتے ہیں لہذا اس میں کسی ایجنسی کے بجائے عوامی نمائندے ہونے چاہیے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا نام و نشان تک نہیں تھا، اور پارلیمنٹ کو محکوم بنایا گیا، جب کہ میں ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین کے طور پر سوال کرتا ہوں ’کیا قانون ساز اپنی مرضی کے مطابق قانون بنا سکتے ہیں؟‘

سربراہ جے یو آئی (ف) نے مزید کہاکہ انگریز سے آزادی تم نے حاصل نہیں کی، میرے اکابرین نے حاصل کی، اگرہم 100 سال سے انگریزوں سے لڑسکتے ہیں تو ان سے بھی لڑسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے کہا تھا اس ملک میں جمہورہت ہوگی لیکن جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے، 25سال سے ہماری معیشت گرتی جارہی ہے، دوسری قومیں ترقی کر رہی ہیں اور ہم گرتے جا رہے ہیں، معیشت گرنے کی وجہ مخصوص گھرانے اور ادارے ہیں۔

مولانافضل الرحمان نے کہا کہ آج کسانوں کا برا حال ہے، ان سے گندم خریدی نہیں جارہی۔

Tags: اسٹیبلشمنٹ کو تنقید جمعیت علمائے اسلام عوام کے نمائندے مولانا فضل الرحمٰن

Post navigation

Previous: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2024: امریکا اور کینیڈا کے میچ میں 10 ملکوں سے تعلق رکھنے والےکھلاڑی شریک
Next: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024: نمیبیا نے سپر اوور میں اومان کو شکست دے دی

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

Zero tolerance against terrorism Army Chief Asim Munir's decisive announcement
  • Top News
  • پاکستان

دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس: آرمی چیف عاصم منیر کا فیصلہ کن اعلان

Peshawar High Court decision POR and ACC cards ineffective, orders return of Afghan citizens
  • Afghanistan
  • Top News
  • پاکستان

پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ:پی او آر اور اے سی سی کارڈ غیر مؤثر، افغان شہریوں کی واپسی کا حکم

یہ بھی پڑہیے

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

PSL opening ceremony canceled, matches will be held without fans: Mohsin Naqvi-PCB
  • کھیل

پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب منسوخ، میچز بغیر شائقین کے ہوں گے: محسن نقوی

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

Calendar

March 2026
MTWTFSS
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031 
« Feb    

Top News

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

US-Israeli attack, Iranian military spokesman martyred, Iran's powerful response, claims to have targeted the latest F-35
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

امریکا-اسرائیل حملہ، ایرانی فوجی ترجمان شہید،ایران کا طاقتور جواب،جدید ایف-35 نشانہ بنانے کا دعویٰ

Iranian attacks affect 17% of Qatar's LNG capacity, costing billions of dollars, putting global supply at risk
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ایرانی حملوں سے قطر کی 17٪ ایل این جی صلاحیت متاثر، اربوں ڈالر کا نقصان، عالمی سپلائی خطرے میں

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.