New START is nearing its end, and nuclear sanctions on the US and Russia are likely to be lifted.
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور تعیناتی کو محدود کرنے والا دنیا کا آخری معاہدہ نیو اسٹارٹ جمعرات کو اپنی مدت پوری کرنے جا رہا ہے۔ اگر آخری لمحے میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو معاہدے کے خاتمے کے ساتھ ہی دونوں بڑی جوہری طاقتوں پر عائد اہم پابندیاں ختم ہو جائیں گی، جسے ماہرین عالمی سلامتی کے لیے تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔
نیو اسٹارٹ سرد جنگ کے بعد امریکا اور روس کے درمیان اسلحہ کنٹرول سے متعلق ہونے والے معاہدوں کی آخری کڑی تھا۔ اس کے تحت دونوں ممالک اپنے اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور تعیناتی پر متفقہ حدود کے پابند تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کا خاتمہ جوہری عدم استحکام میں اضافے اور اسلحہ کی نئی دوڑ کے خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ “امریکا فرسٹ” پالیسی کے تحت متعدد بین الاقوامی معاہدوں پر نظرثانی کر چکے ہیں۔ تاہم نیو اسٹارٹ کے معاملے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ تاخیر کی بڑی وجہ سفارتی جمود ہے، نہ کہ واضح نظریاتی اختلاف۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ برس ستمبر میں معاہدے میں ایک سال کی توسیع کی تجویز دی تھی، جس پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ “اچھی تجویز” ہے، مگر اس کے بعد اس پر کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ روس کے سابق صدر دیمتری میدویدیف کے مطابق ماسکو کو واشنگٹن کی جانب سے اب تک کوئی “بامعنی جواب” موصول نہیں ہوا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ جوہری اسلحہ کنٹرول کے نئے فریم ورک میں چین کو بھی شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب اسلحہ کنٹرول کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیو اسٹارٹ کے خاتمے سے عالمی جوہری خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی ایک مثال ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات کے مزید قریب کرنا بھی ہے۔
واضح رہے کہ روس 2023 میں ہی نیو اسٹارٹ کے تحت ہونے والے معائنے کے عمل کو معطل کر چکا تھا، جبکہ صدر ٹرمپ اکتوبر میں تین دہائیوں بعد امریکا میں جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، اگرچہ اس پر تاحال عملی اقدامات سامنے نہیں آئے۔




