Outrage over Khamenei's assassination, casualties in violent protests, security on high alert
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) او سی ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف اتوار کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بعض مقامات پر سفارتی تنصیبات کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر سینکڑوں افراد جمع ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق کچھ مظاہرین مرکزی دروازہ عبور کر کے اندر داخل ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کراچی پولیس سرجن کے دفتر کے مطابق شہر میں کم از کم 10 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 70 سے زائد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی طبی رپورٹس میں متعدد ہلاکتیں گولی لگنے سے ہوئیں۔
شمالی شہر گلگت میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی اور امریکی سفارت خانے کے قریب پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس شیلنگ کی۔ اسکردو میں مشتعل افراد نے اقوام متحدہ کے ایک دفتر کو آگ لگا دی، جس سے عمارت اور قریبی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ لاہور میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی سربراہِ مملکت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پاکستانی عوام اس مشکل گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
امریکا اور برطانیہ کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو پاکستان میں محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور مزید اقدامات کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔





