
ایران جنگ: امریکی-اسرائیلی حملوں کا 42واں دن، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
اسلام آباد/تہران / بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر صورتحال بدستور غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات جلد شروع کیے جائیں گے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس مزید کشیدگی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
لبنان میں خونریز دن، 200 سے زائد ہلاکتیں
الجزیرہ کے مطابق لبنان نے جمعرات کو یومِ سوگ منایا، جب اسرائیلی حملوں میں ایک ہی دن میں کم از کم 200 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ان حملوں کو امریکہ-ایران جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایران: قیادت کو دھچکا، نئی حکمت عملی
ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں سوگ اور احتجاجی ریلیاں جاری ہیں۔نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنے قومی مفادات کا دفاع ہر صورت کرے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے عالمی پابندیوں کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ معیشت کو بحال کیا جا سکے۔
پاکستان کا سفارتی کردار اہم
الجزیرہ کے مطابق پاکستان جس نے جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا، اس ہفتے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔اقوام متحدہ کے نمائندے بھی خطے میں متحرک ہیں اور مزید سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
خلیجی ممالک میں تشویش
سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں نے تیل و گیس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس سے پیداوار متاثر ہوئی۔برطانیہ کے وزیر اعظم نے خلیجی ممالک کا دورہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر زور دیا ہے۔
امریکہ کا سخت مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی افواج ایران کے گرد موجود رہیں گی جب تک مکمل معاہدہ نافذ نہیں ہو جاتا۔انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹیکس ناقابل قبول ہوگا۔
اسرائیل میں داخلی دباؤ
شمالی اسرائیل میں نیتن یاہو کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں عوام سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے بھی اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی کارروائیاں محدود کرے۔
لبنان اور عراق: جنگ کے سائے
اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی جاری ہے۔لبنان میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے، جہاں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ادھر بغداد میں ایک امریکی سفارتی تنصیب پر ڈرون حملہ بھی رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد امریکہ نے عراق سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، تاہم اس کی حدود اور عملدرآمد پر اختلافات کے باعث خطہ بدستور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اور کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔




