
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستانافغانستان اور چین کے حکام کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں سہ فریقی میکانزم کے تحت اہم مذاکرات جاری ہیں، جن میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ یہ مذاکرات باضابطہ ثالثی عمل نہیں بلکہ ابتدائی نوعیت کی بات چیت ہیں، جن کا مقصد افغان حکام کی سنجیدگی اور عملی آمادگی کا جائزہ لینا ہے۔ ایک اور پاکستانی اہلکار کے مطابق اس ملاقات کے انعقاد میں چین نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ افغان حکومت نے بھی بیجنگ سے اسلام آباد کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد طلب کی تھی۔
مذاکرات میں سکیورٹی کے اہم معاملات، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی آئی ایم) سے متعلق خدشات سرفہرست ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فریق نے اس بار کچھ عملی اقدامات پر آمادگی ظاہر کی ہے اور ایک قابلِ تصدیق طریقہ کار پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
پاکستانی وفد کی نمائندگی دفتر خارجہ کے افغان ڈیسک سے وابستہ ایڈیشنل سیکرٹری سطح کے افسر کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب افغان وفد میں وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام شریک ہیں۔
حکام کے مطابق یہ ایکسپلوریٹری نوعیت کے مذاکرات ہیں، جن کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور آئندہ کے ممکنہ لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی موجودگی میں ہونے والے یہ سہ فریقی مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی کامیابی کا انحصار عملی اقدامات پر ہوگا۔





