Impact of shutdown, deployment of immigration officials at airports controversial
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) الجزیرہ نیوز کی خبر کے مطابق امریکہ میں ایئرپورٹس پر بڑھتی تاخیر اور سکیورٹی عملے کی کمی کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن اہلکاروں کی تعیناتی شروع کر دی ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے سینکڑوں اہلکار ملک کے متعدد بڑے ہوائی اڈوں پر بھیجے جا رہے ہیں، جن میں جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ہارٹس فیلڈ-جیکسن اٹلانٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کو شدید افرادی قلت کا سامنا ہے۔ حکومتی فنڈنگ بحران کے باعث کئی اہلکار بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں جبکہ 300 سے زائد ملازمین ملازمت چھوڑ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹس پر لمبی قطاریں اور پروازوں میں تاخیر بڑھ گئی ہے۔
حکام کے مطابق آی سی سی اہلکاروں کو معاون نوعیت کے فرائض دیے جائیں گے تاکہ ٹی ایس اے عملہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دے سکے۔ اس حوالے سے سرحدی امور کے سربراہ ٹام ہومن نے کہا کہ تعیناتی سکیورٹی اصولوں کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد نظام کو بہتر بنانا ہے۔
تاہم اس اقدام پر اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز کے مطابق غیر تربیت یافتہ اہلکاروں کو حساس مقامات پر تعینات کرنا خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوگی۔
حکمران جماعت کے بعض ارکان نے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکوسکی نے کہا کہ اصل مسئلہ حل کیے بغیر ایسے اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔





