France bans social media for children under 15, parliament approves
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا ہے کہ فرانس کی قومی اسمبلی نے ایک اہم قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس اقدام کو صدر ایمانوئل میکرون کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کی ذہنی صحت کا تحفظ اور حد سے زیادہ اسکرین ٹائم کے منفی اثرات سے بچاؤ ہے۔ اگر سینیٹ سے بھی منظوری مل گئی تو یہ قانون آئندہ تعلیمی سال کے آغاز، یعنی ستمبر 2026 سے نافذ ہو جائے گا۔
قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم کو 116 ووٹوں کے مقابلے میں 23 ووٹوں سے منظور کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم کی فراہم کردہ سوشل میڈیا سروس تک 15 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی ممنوع ہو گی۔ نئے اکاؤنٹس پر پابندی یکم ستمبر سے نافذ کی جائے گی، جبکہ موجودہ کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کو 31 دسمبر 2026 تک غیر فعال کر دیا جائے گا۔
صدر میکرون نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ “ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے جذبات کسی بھی صورت فروخت یا استحصال کے لیے نہیں ہیں، اور نہ ہی انہیں بیرونی الگورتھمز کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے بچوں کی ذہنی نشوونما اور نفسیاتی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔
سابق وزیر اعظم اور حکمران جماعت کے پارلیمانی رہنما گیبریل اتال نے بتایا کہ امید ہے سینیٹ فروری کے وسط تک اس بل کی منظوری دے دے گی۔ ان کے مطابق یہ قانون نہ صرف ذہنی صحت کے تحفظ میں مدد دے گا بلکہ سائبر بُلنگ، پرتشدد مواد اور آن لائن استحصال جیسے خطرات سے نمٹنے میں بھی مؤثر ثابت ہو گا۔
فرانس کے سرکاری صحت کے ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کم عمر بچوں، خصوصاً لڑکیوں، پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان پلیٹ فارمز کے باعث ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قانون کے تحت تعلیمی ویب سائٹس اور آن لائن انسائیکلوپیڈیاز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر نظام متعارف کرانے پر بھی یورپی سطح پر کام جاری ہے، تاکہ قانون پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔






