New turn in US-China relations President Trump visits China, expected to meet Xi Jinping
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کےصدر ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ چینی صدر شی چنگ پنگ سے بیجنگ میں اہم ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق یہ دورہ دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تجارتی کشیدگی اور محصولات کے معاملات دوبارہ زیر بحث ہیں۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی اعلیٰ عدالت نے انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے متعدد محصولات کو کالعدم قرار دیا، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ چین سے درآمدات پر آئندہ کس قانونی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ یہ اقدامات تجارتی عدم توازن اور قومی معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تھے۔
صدر ٹرمپ نے غیر رسمی گفتگو میں اپنے دورے کو بڑا اور یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ مبصرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس ملاقات کو محض سفارتی ملاقات نہیں بلکہ طاقت کے توازن کے تناظر میں اہم موقع سمجھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں : امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ٹرمپ کے عالمی ٹیرف غیر قانونی قرار – اردو انٹرنیشنل
دونوں رہنماؤں کی آخری بالمشافہ ملاقات اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا میں ہوئی تھی، جہاں محصولات میں جزوی کمی، امریکہ کے لیے سویا بین کی خریداری میں اضافہ اور بعض حساس معدنیات کی فراہمی برقرار رکھنے پر بات چیت ہوئی تھی۔ اس بار بھی زرعی تجارت، خاص طور پر سویا بین کی برآمدات، ایجنڈے کا نمایاں حصہ متوقع ہے کیونکہ یہ معاملہ امریکی کسانوں کے لیے سیاسی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب تائیوان کا معاملہ بھی پس منظر میں موجود ہے۔ امریکہ اگرچہ باضابطہ سفارتی تعلقات چین کے ساتھ رکھتا ہے، تاہم وہ تائیوان کو دفاعی ساز و سامان فراہم کرتا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس مسئلے پر بیجنگ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بیجنگ ملاقات میں یہ موضوع بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔





