US ready for military attack on Iran, Tehran's response strategy
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) فنانشل ٹائمزکی خبر کے مطابق امریکہ بظاہر ایران پر ایک بڑا فوجی حملہ کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ ایران مذاکرات کو حل کے بجائے ایک جال سمجھتا ہے اور ممکنہ جنگ کو اپنے فائدے میں استعمال کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے 2015 کے جوہری معاہدے کو ترک کیا اور سخت پابندیاں عائد کیں، جس سے ایران میں معاشی بحران اور داخلی بے چینی پیدا ہوئی۔ گزشتہ مظاہروں کے دوران ٹرمپ نے ایران کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی فوجی حمایت کا عندیہ دیا، جس کے بعد تہران نے مظاہرین کو سختی سے کچل دیا۔
ایران کے لیے مذاکرات کی اصل شرط یہ ہے کہ کسی بھی معاہدے میں یہ یقین دہانی ہو کہ امریکہ حملہ نہیں کرے گا، پابندیاں اٹھائے گا اور ایران کو یورینیم افزودگی کے پرامن حقوق سے دستبردار نہیں کرے گا۔ تاہم موجودہ مذاکرات میں امریکہ نے ایران سے نہ صرف جوہری پروگرام بلکہ میزائل سسٹمز اور علاقائی اتحادی گروہوں کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ولی نصرکا کہنا ہےکہ ایران مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں کرے گا، وہ جنگ کو سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے اور امید رکھتا ہے کہ یہ تصادم بالآخر اسے زیادہ موافق جوہری معاہدے تک پہنچا دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت طویل اور مہنگی جنگ کی تیاری کر رہی ہے، جسے وہ سنبھالنے اور اپنے فائدے میں استعمال کرنے کے قابل سمجھتی ہے۔ ایرانی حکمران امید کرتے ہیں کہ جنگ حب الوطنی کو بھڑکائے گی اور قومی یکجہتی پیدا کرے گی۔ تہران کا خیال ہے کہ جوں جوں جنگ طویل ہوگی، امریکہ کے لیے اسے ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنا زیادہ ضروری ہوگا، اور مذاکرات میں ایران بہتر پوزیشن حاصل کر سکے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تہران کی حکمت عملی محض دفاعی نہیں بلکہ ایران کی طویل مدتی جوہری اور علاقائی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود مذاکرات میں بہتر نتائج حاصل کر سکے اور ممکنہ جنگ میں اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرے۔




