The world's cautious reaction to Trump's invitation to 60 countries to the 'Board of Peace'
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) گلوبل ٹائمز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے تقریباً 60 ممالک کو مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت نے سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے، جہاں اس منصوبے کو عالمی امن کے لیے نئی کوشش قرار دینے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ دعوت نامے ہفتے کے روز یورپی دارالحکومتوں میں موصول ہونا شروع ہوئے۔ اردن، یونان، قبرص اور پاکستان نے دعوت ملنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ کینیڈا، ترکی، مصر، پیراگوئے، ارجنٹینا اور البانیہ بھی ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں اس فورم میں شمولیت کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم مدعو کیے گئے ممالک کی حتمی تعداد اور فورم کی قانونی حیثیت سے متعلق تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ انہوں نے اصولی طور پر اس منصوبے میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاکہ غزہ کی تعمیر نو میں تعاون کیا جا سکے، تاہم مالی ذمہ داریوں اور عملی طریقہ کار پر مزید وضاحت درکار ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے خط موصول ہوا ہے، لیکن کسی حتمی فیصلے سے قبل منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے اس فورم میں شمولیت قبول کر لی ہے۔
دعوت نامے کے ساتھ بھیجے گئے مسودۂ چارٹر کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کی صدارت ڈونلڈ ٹرمپ تاحیات کریں گے، جبکہ رکن ممالک کی مدت تین سال ہوگی۔ مسودے میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کرنے والے ممالک کو مستقل رکنیت دی جا سکتی ہے۔ منصوبے کے مطابق فورم کے ایجنڈے کا آغاز غزہ تنازع سے کیا جائے گا، جس کے بعد دیگر عالمی تنازعات کو بھی زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔
چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے محقق لو شیانگ کا کہنا ہے کہ یہ فورم زیادہ تر امریکی صدر کے ذاتی سیاسی مفادات سے جڑا دکھائی دیتا ہے اور اقوام متحدہ کا حقیقی متبادل نہیں بن سکتا۔ یورپی سفارتی ذرائع نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے متوازی فورمز عالمی اداروں کے موجودہ ڈھانچے کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا ہے کہ رکن ممالک مختلف پلیٹ فارمز پر تعاون کے لیے آزاد ہیں، تاہم اقوام متحدہ عالمی امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔






