US-Israeli attack, Iranian military spokesman martyred, Iran's powerful response, claims to have targeted the latest F-35
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان اور شعبہ تعلقاتِ عامہ کے نائب علی محمد نائینی کی شہادت کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بھی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ نائینی خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے لیے اہم کردار ادا کر رہے تھے، جبکہ ایرانی حکام نے اس واقعے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی قیادت نے سیکیورٹی اداروں کو مزید متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے دفاع میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تو اسے براہِ راست جنگ میں شمولیت سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مرکزی ایران میں ایک امریکی ایف-35 طیارے کو نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا، جبکہ درجنوں ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس واقعے کو امریکی عسکری برتری کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔
ادھر اسرائیل کی جانب سے تہران سمیت مختلف علاقوں میں مزید حملے کیے گئے ہیں، جبکہ لبنان، شام اور عراق میں بھی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔
خلیجی ممالک بھی اس تنازع سے محفوظ نہیں رہے، جہاں کویت کی ایک آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی، جبکہ دیگر ممالک نے بھی میزائل حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے۔



